سعودی سرمایہ کاروں کی نظریں سیاحتی شعبے پر، طویل مدت کے لیے منصوبہ بندی جاری:شامی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک شامی عہدیدار نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ سعودی سرمایہ کار اب شام میں سیاحتی شعبے کے مواقع کو طویل المدتی نقطۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

شام کے وزیرِ سیاحت مازن الصالحانی نے وضاحت کی کہ سیاحتی شعبے میں سعودی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے پانچ بنیادی عوامل ہیں، جن میں واضح ضابطہ جاتی فریم ورک، سرکاری و نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کے مستحکم ماڈلز، خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے واضح حکومتی منصوبے، آپریشنل معیارات کی جدید کاری اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنانا شامل ہے۔

اسی تناظر میں انہوں نے بتایا کہ سعودی سرمایہ کاروں کی جغرافیائی دلچسپی خاص طور پر شامی دارالحکومت دمشق اس کے نواحی علاقوں اور شامی ساحلی پٹی کی جانب ہے۔

دمشق شہری سیاحت اور کاروباری سیاحت کے ایک نمایاں ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں ہوٹل منصوبوں میں قدیم شہر کی تاریخی عمارتوں کو نئے انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ ایسے کثیرالمقاصد منصوبے بھی شامل ہیں ،جو رہائش، تجارتی اور تفریحی سہولیات کو یکجا کرتے ہیں اور شہری و کاروباری سیاحت کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

مازن الصالحانی نے مزید کہا کہ شامی ساحلی علاقہ بالخصوص ساحلی سیاحت اور ریزورٹس کے شعبے میں ایک اہم سیاحتی مرکز بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شامی سیاحتی شعبہ محض ثانوی آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی محرک ہے۔ان کے مطابق شامی حکومت آئندہ دو برسوں کے دوران سیاحتی شعبے کا مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 20 سے 25 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھتی ہے، جس کے لیے سرمایہ کاری کی تمام زنجیروں کو فعال بنانے، سیاحتی راستوں کی ترقی اور اس شعبے سے وابستہ خدمات کو فروغ دینے پر کام کیا جا رہا ہے، تاکہ سیاحتی سرگرمیوں کا پائیدار تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔

حالیہ گھنٹوں میں شام میں متعدد معاشی و ترقیاتی معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 40 ارب ریال (6 اعشاریہ 10 ارب ڈالر) ہےاور یہ 80 معاہدوں پر مشتمل ہیں۔

یہ معاہدے سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح کی قیادت میں ایک سعودی وفد کے دمشق کے دورے کے دوران طے پائے۔

اس موقع پر خالد الفالح نے اس بات کی تصدیق کی کہ دمشق میں سعودی سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں۔اسی سلسلے میں سعودی عرب نے سعودی ایئرلائن ’’طیاران ناس‘‘ اور شامی سرکاری اداروں کے درمیان شراکت داری کے آغاز کا اعلان کیا، حلب ایئرپورٹ کی ترقی اور آپریشن کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے، جبکہ شامی کیبلز کمپنی کی ترقی کے لیے بھی ایک الگ معاہدہ طے پایا۔ یہ اقدامات شام میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سعودی عرب کے عزم کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں