عالمی دفاعی نمائش 2026: شہزادہ خالد بن سلمان کی موجودگی میں متعدد دفاعی معاہدوں پر دستخط

سنہ 2024 کے اختتام تک فوجی اخراجات کی مقامی سطح پر فراہمی کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ تقریب خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی عالمی دفاعی نمائش 2026 کے تیسرے ایڈیشن کے موقع پر منعقد ہوئی۔

اس موقع پر سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے دفاعی ترقی اور جمہوریہ کوریا کی دفاعی ترقیاتی ایجنسی کے درمیان دفاعی و فوجی نظام اور ٹیکنالوجی کی اختراع اور تحقیق و ترقی کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

سعودی وزیر دفاع نے جمہوریہ سلوواکیہ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع رابرٹ کالیناک کے ساتھ بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ علاوہ ازیں انہوں نے ملائیشیا کے وزیر دفاع محمد خالد نور الدین کے ساتھ سعودی حکومت اور ملائیشیا کی حکومت کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

اسی طرح انہوں نے جمہوریہ صومالیہ کے وزیر دفاع احمد معلم فقی کے ساتھ فوجی شعبے میں تعاون کی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس کے بعد انہوں نے نمائش کے مختلف حصوں اور ہالز کا دورہ کیا جس میں 89 ممالک کے 1486 سے زائد اداروں کے ساتھ ساتھ متعدد سرکاری اداروں اور بڑی قومی و بین الاقوامی کمپنیوں نے شرکت کی۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی (سامی) کے پویلین میں 'سامی لینڈ سسٹمز کمپنی'، 'سامی انڈسٹریل کمپلیکس برائے لینڈ سسٹمز' اور 'ہیت' (HEET) بکتر بند گاڑیوں کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ مزید برآں انہوں نے 'سامی ان مینڈ سسٹمز کمپنی' اور 'رکن' پروگرام کا بھی افتتاح کیا جو عسکری صنعتوں کے شعبے میں مقامی مواد اور سپلائی چینز کی مدد سے متعلق ہے۔

عالمی دفاعی نمائش 2026 ءکے تیسرے ایڈیشن کی سرگرمیاں دارالحکومت الریاض کے شمال میں واقع علاقے ملہم میں شروع ہوئیں جس میں وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور دفاعی و سکیورٹی صنعت کے شعبے سے وابستہ بین الاقوامی کمپنیوں، سرکاری اداروں اور وفود نے شرکت کی۔

مقامی عسکری پیداوار میں اضافہ

اس موقع پر انجینئر احمد العوہلی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ دفاعی نمائش نے تیزی سے ترقی کی ہے یہاں تک کہ یہ ایک ایسا تزویراتی پلیٹ فارم بن گئی ہے جہاں بڑے مینوفیکچررز، موجد اور سرمایہ کار جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش مملکت کے ویژن 2030 کے فریم ورک کے تحت دفاع، سکیورٹی اور عسکری صنعتوں کے شعبوں کو حاصل قیادت کی بھرپور حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔

العوہلی نے عسکری صنعتوں کے شعبے کو مقامی بنانے کی کوششوں کے لیے قیادت کی حمایت کو سراہا، جس کا مقصد سنہ 2030 تک عسکری اخراجات کا 50 فیصد سے زائد حصہ مقامی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تعاون کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں اور فوجی اخراجات کی مقامی سطح پر فراہمی کی شرح سنہ 2018 کے 4 فیصد سے بڑھ کر سنہ 2024 کے اختتام تک تقریباً 25 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ ہدف سنہ 2030 تک اسے 50 فیصد سے اوپر لے جانا ہے۔

انہوں نے مزید اشارہ کیا کہ سنہ 2025 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک لائسنس یافتہ اداروں کی تعداد تقریباً 344 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 603 تاسیسی لائسنس اور اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں جن میں عسکری مینوفیکچرنگ، مصنوعات کی فراہمی اور فوجی خدمات کی فراہمی کے شعبے شامل ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اتھارٹی کی کوشش ہے کہ سنہ 2030 تک مجموعی قومی پیداوار میں اس شعبے کا حصہ تقریباً 94 ارب ریال تک پہنچ جائے، جس سے سنہ 2030 تک روزگار کے 40 ہزار براہ راست اور 60 ہزار بالواسطہ مواقع فراہم ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں