عالمی دفاعی نمائش 2026: شہزادہ خالد بن سلمان کی موجودگی میں متعدد دفاعی معاہدوں پر دستخط
سنہ 2024 کے اختتام تک فوجی اخراجات کی مقامی سطح پر فراہمی کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی
سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ تقریب خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی عالمی دفاعی نمائش 2026 کے تیسرے ایڈیشن کے موقع پر منعقد ہوئی۔
اس موقع پر سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے دفاعی ترقی اور جمہوریہ کوریا کی دفاعی ترقیاتی ایجنسی کے درمیان دفاعی و فوجی نظام اور ٹیکنالوجی کی اختراع اور تحقیق و ترقی کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
صواريخ متطورة وخطط لتوطين الطموح.. شراكة استراتيجية: MBDA تعزز قدرات الدفاع الجوي السعودي #نشرة_الرابعة #قناة_العربية#السعودية pic.twitter.com/zohRJZmOoE
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) February 8, 2026
سعودی وزیر دفاع نے جمہوریہ سلوواکیہ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع رابرٹ کالیناک کے ساتھ بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ علاوہ ازیں انہوں نے ملائیشیا کے وزیر دفاع محمد خالد نور الدین کے ساتھ سعودی حکومت اور ملائیشیا کی حکومت کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔
اسی طرح انہوں نے جمہوریہ صومالیہ کے وزیر دفاع احمد معلم فقی کے ساتھ فوجی شعبے میں تعاون کی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس کے بعد انہوں نے نمائش کے مختلف حصوں اور ہالز کا دورہ کیا جس میں 89 ممالک کے 1486 سے زائد اداروں کے ساتھ ساتھ متعدد سرکاری اداروں اور بڑی قومی و بین الاقوامی کمپنیوں نے شرکت کی۔
اپنے دورے کے دوران انہوں نے سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی (سامی) کے پویلین میں 'سامی لینڈ سسٹمز کمپنی'، 'سامی انڈسٹریل کمپلیکس برائے لینڈ سسٹمز' اور 'ہیت' (HEET) بکتر بند گاڑیوں کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ مزید برآں انہوں نے 'سامی ان مینڈ سسٹمز کمپنی' اور 'رکن' پروگرام کا بھی افتتاح کیا جو عسکری صنعتوں کے شعبے میں مقامی مواد اور سپلائی چینز کی مدد سے متعلق ہے۔
عالمی دفاعی نمائش 2026 ءکے تیسرے ایڈیشن کی سرگرمیاں دارالحکومت الریاض کے شمال میں واقع علاقے ملہم میں شروع ہوئیں جس میں وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور دفاعی و سکیورٹی صنعت کے شعبے سے وابستہ بین الاقوامی کمپنیوں، سرکاری اداروں اور وفود نے شرکت کی۔
مستشار العربية لشؤون التسلح رياض قهوجي: معرض الدفاع العالمي بالرياض سينعكس إيجابًا على نقل التكنولوجيا وتوطين الصناعات في السعودية#النشرة_الصباحية #قناة_العربية#السعودية pic.twitter.com/3vxKQHQEdp
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) February 8, 2026
مقامی عسکری پیداوار میں اضافہ
اس موقع پر انجینئر احمد العوہلی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ دفاعی نمائش نے تیزی سے ترقی کی ہے یہاں تک کہ یہ ایک ایسا تزویراتی پلیٹ فارم بن گئی ہے جہاں بڑے مینوفیکچررز، موجد اور سرمایہ کار جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش مملکت کے ویژن 2030 کے فریم ورک کے تحت دفاع، سکیورٹی اور عسکری صنعتوں کے شعبوں کو حاصل قیادت کی بھرپور حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔
مقاتلة F35 بشعار القوات الجوية السعودية تلفت الأنظار في معرض الدفاع العالمي pic.twitter.com/WdS2QeIoyW
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) February 8, 2026
العوہلی نے عسکری صنعتوں کے شعبے کو مقامی بنانے کی کوششوں کے لیے قیادت کی حمایت کو سراہا، جس کا مقصد سنہ 2030 تک عسکری اخراجات کا 50 فیصد سے زائد حصہ مقامی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تعاون کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں اور فوجی اخراجات کی مقامی سطح پر فراہمی کی شرح سنہ 2018 کے 4 فیصد سے بڑھ کر سنہ 2024 کے اختتام تک تقریباً 25 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ ہدف سنہ 2030 تک اسے 50 فیصد سے اوپر لے جانا ہے۔
طائرات F-35 تحلق فوق #الرياض تزامنًا مع معرض الدفاع العالمي 2026، حيث من المنتطر أن تستلم #السعودية 48 طائرة من هذا النوع بعد صفقة تاريخية مع #أميركا pic.twitter.com/CArvmer0qe
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) February 8, 2026
انہوں نے مزید اشارہ کیا کہ سنہ 2025 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک لائسنس یافتہ اداروں کی تعداد تقریباً 344 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 603 تاسیسی لائسنس اور اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں جن میں عسکری مینوفیکچرنگ، مصنوعات کی فراہمی اور فوجی خدمات کی فراہمی کے شعبے شامل ہیں۔
سررتُ في معرض الدفاع العالمي بلقاء أصحاب المعالي والسعادة وزراء الدفاع وكبار المسؤولين من الدول الشقيقة والصديقة.
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) February 8, 2026
تبادلنا الأحاديث حول عدد من الموضوعات الخاصة بمستقبل صناعة الدفاع والأمن، وأشدنا بالفرص المتاحة بالمعرض.
كما وقعت وشهدت توقيع عدد من مذكرات التفاهم والاتفاقيات. pic.twitter.com/D7Ns5bDziE
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اتھارٹی کی کوشش ہے کہ سنہ 2030 تک مجموعی قومی پیداوار میں اس شعبے کا حصہ تقریباً 94 ارب ریال تک پہنچ جائے، جس سے سنہ 2030 تک روزگار کے 40 ہزار براہ راست اور 60 ہزار بالواسطہ مواقع فراہم ہوں گے۔