غزہ میں امدادی مقامات کی حفاظت پر مامور رہنے والی ایک امریکی سکیورٹی کمپنی "یو جی سولیوشنز" نے انکشاف کیا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں قائم "امن کونسل" کے ساتھ غزہ کی پٹی میں اپنے مستقبل کے کردار کے حوالے سے مذاکرات کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذکورہ کمپنی کو ماضی میں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران ہونے والے خونی واقعات پر اقوام متحدہ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔
کمپنی نے یہ معلومات ان خبروں کے بعد ظاہر کیں جن میں کہا گیا تھا کہ وہ عربی زبان جاننے والے اور جنگی تجربہ رکھنے والے افراد کو ملازمت پر رکھ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، واشنگٹن میں قائم "امن کونسل" کے ساتھ یہ بات چیت کئی ہفتوں سے جاری ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ یاد رہے کہ اس کمپنی نے گذشتہ سال "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن" کو سکیورٹی فراہم کی تھی، جس کے امدادی مراکز پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے سیکڑوں فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے۔
کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے امن کونسل کو اپنی تجاویز پیش کر دی ہیں جنہیں سراہا گیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ کونسل کی سکیورٹی ترجیحات واضح ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ دوسری جانب فلسطینی حلقوں میں اس کمپنی کی ممکنہ واپسی پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا کا کہنا ہے کہ ان اداروں کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور غزہ میں ان کا کوئی خیر مقدم نہیں کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ جنگ ختم کرنے کا منصوبہ ... امداد میں اضافے، اسرائیلی انخلاء اور حماس کے نہتے ہونے کے بعد امن کونسل کی نگرانی میں غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو پر مبنی ہے۔ اس سلسلے میں اگلے ہفتے واشنگٹن میں ایک اجلاس متوقع ہے جس میں فنڈز جمع کرنے اور جیرڈ کشنر کے تعمیرِ نو کے منصوبے پر غور کیا جائے گا۔
یو جی سولیوشنز نے اپنی ویب سائٹ پر ایسی اسامیوں کے اشتہارات بھی دیے ہیں جن میں "ہلکے ہتھیاروں" کے استعمال میں مہارت اور بین الاقوامی انسانی سکیورٹی کا تجربہ رکھنے والے افراد طلب کیے گئے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کا کردار صرف امدادی مقامات کی حفاظت تک محدود رہا ہے اور وہ لوٹ مار سے بچنے کے لیے انسانی ہمدردی کے اداروں کی معاونت کرنا چاہتی ہے۔
ایک اور اسامی صرف خواتین کے لیے ہے، جو کہ "کلچرل سپورٹ آفیسر" کی ہے تاکہ امداد کی "محفوظ، مؤثر اور ثقافتی طور پر موزوں تقسیم" کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ان ملازمتوں کا مقصد غزہ میں ممکنہ معاہدوں کے لیے ٹیم تیار کرنا اور شام میں اپنے کام کا دائرہ وسیع کرنا ہے، جہاں وہ تیل اور گیس کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔