اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کی موجودگی میں تشدد پسند یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ مغڈبی کنارے میں پندرہ فلسطینیوں کے گھر اور جانوروں کے کیے قائم کردہ باڑے مسمار کر دیے ہیں۔ یہودی اباد کاروں نے یہ تازہ دہشت گردانہ کارروائی اریحا شہر کے نزدیک ایک گاوں التحنا میں کی ہے۔
اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی طرف سے مغربی کنارے میں اپنے تسلط میں اضافے کے لیے کیے گئے حالیہ فیصلے کے بعد بڑی کارروائی ہے۔ جو یہودی آباد کاروں نے کی ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے میں ان یہودی آباد کاروں کے یے بھی مزید یہودی بستیاں قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔
عینی شاہدوں کے مطابق ایک روز قبل یہودی ابادکاروں نے الدیوک التحتا نامی علاقے میں بھی جانوروں کے لیے قائم کیے گئے ڈھانچوں کو گرا دیا تھا۔ یہودی آباد کاروں کی ان کارروائیوں کا بڑا مقصد علاقے سے فلسطینیوں کو ہراساں کر کے نقل مکانی پر مجبور کرنا اور ان کے گھروں کی جگہوں کے علاوہ زرعی زمینوں کو بھی ہتھیانا ہے۔ اس سلسلے میں یہودی آباد کاروں کو اسرائیلی حکومت کی پوری تائید حاصل ہے اور سرکاری پالیسی کے مطابق سب کچھ کیا جاتا ہے۔
گاؤں الدیوک التحتا میں فلسطینیوں کے گھروں کی تباہی دیکھنے والے عینی شاہدوں نے بتایا ہے پچاس کے قریب یہودی آباد کار ایک بڑے جتھے کی صورت میں جمع ہو کر آئے اور ایک کو جبری طریقے سے اس کے گھر سے بے دخل کرکے گھر کو گرانا شروع کردیا۔ مصطفی کعبنہ نامی عینی شاہد نے بتایا یہودی اباد کار گھروں کا سامان بھی اٹھا کے گئے حتی مرغیاں بھی اٹھا لے گئے۔ یہ ایک منظم دہشت گردی بھی تھی اور منظم ڈکیتی بھی۔
اس عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا زیادہ تر یہودی مسلح ہو کر ائے تھے۔ ان کے ساتھ ایک اسرائیلی فوج کی گاڑی بھی تھی اور ایک بلڈوزر بھی تھا۔
دوسری جانب اے ایف پی کی طرف سے اسرائیلی فوج سے اس بارے میں پوچھا گیا ہے مگر فوج نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
ایک اور عینی شاہد 23 سالہ باسم کعبنہ نے کہا یہودی آباد کاروں نے فلسطینی عورتوں اور بچوں کو اس موقع پر تشدد کا بھی نشانہ بنایا ہے۔ان جبری طور پر ان کے گھروں سے نکالا لوٹ مار کی اور پھر گھر گرا دیے۔ ای یہودی آباد کاروں میں سے ایک۔نے۔مجھے کہا یہ کافی نہیں کہ اب تمہارا اس علاقے میں گھر نہیں ہے۔
ابو اعود الرجبی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا آن گھروں کو گرانے والے یہودی آباد کاروں نے گھروں کو گرانے کا کوئی جواز پیش کیا نہ کوئی اپنا اختیار ظاہر کیا کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں۔ شاید وہ سمجھتے کہ انہیں کسی بہانے کی بھی کوئی ضرورت نہ تھی کہ وہ ہہودی آباد کار تھے۔
اس مقامی فلسطینی نے کہا وہ ہمیشہ سے یہاں کے رہنے والے ہیں ان کا یہ نیا تعمیر شدہ گھر 13 سال پہلے بنایا گیا تھا۔اس نے بتایا اس کارروائی سے پہلے یہودی اباد کاروں نے علاقے کی ناکہ بندیکی اور پھر اطمینان سے اپنی کارروائی مکمل کی۔
انسانی حقوق کے کارکن جہاد محلیس نے کہا ان میں سے پانچ گھر ۔مضبوط پتھر سے بنے تھے جبکہ تین گھر زیادہ مضبوط نہیں تھے۔ اسی طرح جانوروں کو سرما میں بچانے کے لیے بنائے گئے ڈھانچے بھی گرائے گئے ہیں۔ کچھ ایسے حصے میں بھی کارروائی کی گئی ہے جو اب مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہیں اور مغربی کنارے کے علاقے' سی' میں آتے ہیں۔
باسم کعبنہ نے کہا اب ہمیں بے گھر اور بے در کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے مغربی کنارے میں اسرائیل نے پانچ لاکھ یہودی آباد کیے ہیں۔ جبکہ فلسطینیوں کی آبادی تیس لاکھ ہے۔ مگر اسرائیلی حکومت اس علاقے پر اپنا تسلط بڑھاتی چلی جارہی ہے۔