اسرائیل مغربی کنارے کو ہضم کرتے ہوئے دو ریاستی حل کو ناکام بنا رہا ہے!

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، جو فلسطینی اداروں اور دو ریاستی حل کو کمزور کر رہے ہیں ... دوسری جانب اسرائیلی وزیر سموٹرچ کا دعویٰ ہے کہ "فلسطینی قوم کا کوئی وجود نہیں".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے وقت سے مغربی کنارہ بھی مسلسل اسرائیلی کارروائیوں کی زد میں ہے۔ یہاں حالیہ گھنٹوں میں رام اللہ، جنین، طولکرم اور الخلیل کے مختلف قصبوں میں چھاپے مار کر متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان فوجی اقدامات کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے حالیہ عرصے میں ایسے انتظامی اقدامات کیے ہیں جو فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔

اسرائیل نے حال ہی میں مغربی کنارے میں زمینوں کی خرید و فروخت کے ریکارڈ کو عام کر دیا ہے تاکہ آباد کاروں کے لیے زمین خریدنا آسان ہو جائے، جبکہ اس سے قبل یہ ریکارڈ خفیہ تھا۔ اس کے علاوہ 1948 سے نافذ العمل اس اردنی قانون کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے جو زمینوں کی خرید و فروخت کو منظم کرتا تھا۔

اسرائیلی وزرائے خزانہ اور دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب مغربی کنارے کے ان علاقوں (زون اے اور بی) میں بھی اپنی نگرانی اور گرفتاریوں کا دائرہ وسیع کریں گے جو معاہدہ اوسلو کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام تھے۔ انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ نے ان اقدامات کو ایک "انقلاب" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنا ہے۔

تاریخی طور پر 1947 میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا، جسے یہودی قیادت نے قبول کیا مگر عرب ممالک نے مسترد کر دیا۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت 7 لاکھ فلسطینی بے گھر ہوئے جو اب اردن، لبنان، شام، غزہ اور مغربی کنارے میں پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کے 193 میں سے 157 ممالک فلسطین کو ریاست تسلیم کرتے ہیں، مگر اسے عالمی ادارے کی مکمل رکنیت حاصل نہیں ہے۔

یاد رہے کہ "دو ریاستی حل" 1993 کے اوسلو معاہدے کی بنیاد تھا، جس کے تحت یاسر عرفات کی قیادت میں تنظیمِ آزادیِ فلسطین نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور تشدد ترک کرنے کا اعلان کیا تاکہ بیت المقدس کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد ریاست قائم ہو سکے۔ تاہم یہ عمل مسلسل ناکامیوں کا شکار رہا۔ اسرائیل میں انتہا پسندوں کے اقتدار اور فلسطینی علاقوں میں بڑھتی ہوئی یہودی بستیوں نے اس حل کو تقریباً نا ممکن بنا دیا ہے۔ واضح رہے کہ امنِ نو (Peace Now) تنظیم کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں آباد کاروں کی تعداد 1993 میں 2 لاکھ 50 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 7 لاکھ ہو چکی ہے۔

موجودہ صورتحال میں مغربی کنارہ تین علاقوں میں تقسیم ہے : زون 'اے' (18 فیصد رقبہ) فلسطینی اتھارٹی کے مکمل کنٹرول میں ہے، زون 'بی' (22 فیصد) میں انتظامی کنٹرول فلسطینی اور سکیورٹی کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے، جبکہ زون 'سی' (60 فیصد رقبہ) مکمل طور پر اسرائیل کے زیر تسلط ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے مطابق اسرائیل کے یہ حالیہ اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور دو ریاستی حل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب سمیت عالمی برادری اب بھی اس بات پر زور دے رہی ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے "دو ریاستی حل" ہی واحد راستہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں