شام: جنوبی حصے میں دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں اسرائیلی دراندازیوں کی تعداد 21 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی شام میں سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی افواج نے آج جمعے کے روز شام کے صوبے قنیطرہ کے گاؤں عین الزوان میں دراندازی کی اور وہاں ایک گھر پر چھاپا مارا۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی (سانا) کے مطابق اسرائیلی افواج نے گذشتہ روز بھی جنوبی قنیطرہ کے دیہی علاقے میں واقع گاؤں صیدا الحانوت میں دراندازی کی تھی اور اس کے مغربی داخلی راستے پر ایک چوکی قائم کر دی تھی۔

اسی طرح بدھ کے روز بھی اسرائیلی افواج نے گاؤں اوفانیا میں دراندازی کی، جبکہ شمالی قنیطرہ کے دیہی علاقے میں واقع تل الاحمر عین النوریہ کے گردونواح میں روشنی کے گولے اور توپ خانے کے دو گولے فائر کیے۔

اسرائیلی افواج نے رواں فروری کے آغاز سے ہی جنوبی علاقوں میں اپنی فوجی نقل و حرکت تیز کر دی ہے، جس کے دوران قنیطرہ اور درعا کے دیہی علاقوں میں زمینی در اندازی اور فضائی پروازوں کا سلسلہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

نیوز ایجنسی "ڈی پی اے" کے مطابق اس ماہ کے آغاز سے آج تک دراندازی کے واقعات کی تعداد 21 تک پہنچ گئی ہے۔ ان کارروائیوں میں بار بار زمینی داخلہ، شہریوں کی گرفتاریاں، زرعی زمینوں کو بلڈوز کرنا اور شامی علاقوں کے اندر عارضی فوجی چوکیاں قائم کرنا شامل ہے۔

واضح رہے کہ8 دسمبر 2024 کو شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اس علاقے میں اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں قنیطرہ اور درعا کے دیہی علاقوں میں تقریباً روزانہ در اندازی اور گرفتاریاں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

اسرائیل نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور اس کی افواج کئی مہینوں سے غیر فوجی علاقے (بفر زون) کے اندر داخل ہو چکی ہیں۔ اسرائیل نے جنوبی شام میں بفر زون سے آگے بڑھ کر جبلِ شیخ کے اسٹریٹجک مانیٹرنگ پوائنٹ سمیت مختلف مقامات پر اپنی افواج اور فوجی ساز و سامان تعینات کر دیا ہے۔

دریں اثنا امریکی ثالثی میں شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے 6 سے زائد ادوار کے باوجود اب تک کسی ایسے سکیورٹی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا جس کا مقصد سرحدی علاقے میں استحکام حاصل کرنا ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں