العربیہ/الحدث کی ایکسکلوسیو رپورٹس جنہیں شامی حکومت کے حمایتی صحافی شادی حلوہ نے پیش کیا، جس میں سابق صدر کے محل کی سابق میڈیا مشیر لونا الشبل کے قتل کے حالات کے بارے میں الزامات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق الشبل کو اس وقت قتل کیا گیا ،جب وہ بشار الاسد سے متعلق ''خطرناک راز '' افشا کرنے والی تھی۔
لیکس کے مطابق اس کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی براہِ راست الاسد کے حکم پر سابق صدر کے امور کے وزیر منصور عزام کے ذریعے کی گئی، جنہیں شامی صدر کا ''بلیک باکس ''بھی کہا جاتا ہے۔
معلومات کے مطابق عزام نے الشبل کو فون کیا اور انہیں محل بلانے کا کہا: اور کہا گیا کہ وہ اپنے معاون کو بھی ساتھ لائیں۔
بعد میں الشبل کو سر پر مار کر قتل کیا گیا، بعد ازاں ان کی موت کے باوجود انہیں ظاہری طور پر آئی سی یو میں رکھا گیا۔مزید برآں جنازے کے انتظامات بھی جان بوجھ کر لاپرواہی سے کیے گئے۔
روسیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات
اسی سلسلے میں لیک معلومات لے مطابق محل کے اندرونی اختلافات کا ذکر بھی آیا اور کہا گیا کہ الشبل کے روسیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات تھے۔
أسماء الاسد نے ان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے مداخلت کی اور انہیں میڈیا کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا۔مزید یہ کہ الزامات کے مطابق الشبل اسد کے لیے رقم روس منتقل کر رہی تھیں۔
لونا الشبل ''جاسوسہ''
معلومات میں ایرانی الزامات کا بھی ذکر آیا، جن کے مطابق الشبل پر جاسوسی کا الزام تھا، کہا گیا کہ ان کے بھائی کو اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات کے الزام میں پھانسی دی گئی۔
اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ الشبل کو قتل سے کچھ عرصہ پہلے نوکری سے ہٹا دیا گیا تھا۔لیکس میں یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ بزنس مین حسام القاطرجی نے داعش اور شام کی جمواری افواج کے زیرِ قبضہ علاقوں سے تیل نکال کر حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں پہنچانے میں کردار ادا کیا۔