اسرائیل کا مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کا فیصلہ، سعودی عرب اور پاکستان کی مذمت
پاکستان اور سعودی عرب نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے میں اسرائیل کی جانب سے زمین کے انتظام (لینڈ ریگولیشن) کا متنازع عمل شروع کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس فیصلے کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے سے اسرائیل مستقبل کی ترقی کے لیے اس علاقے کے وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور مغربی کنارے میں ’زمین کی ملکیت کے تصفیے‘ کا قانونی عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا جو 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے منجمد تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اسرائیل کسی خاص علاقے میں زمین کی رجسٹریشن شروع کرے گا تو زمین پر دعویٰ کرنے والے کسی بھی شخص کو ملکیت ثابت کرنے والی دستاویزات جمع کروانی ہوں گی۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے پیر کو اسرائیل کی جانب سے اُن نئے زمینی اقدامات کی مذمت کی ہے جن سے وہ مغربی کنارے پر اپنا کنٹرول مضبوط کر سکے گا اور کہا ہے کہ ان کا مقصد "مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی قانونی اور انتظامی حیثیت مسلط کرنا ہے۔" وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ اقدامات "خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔"
ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو نام نہاد ریاستی ملکیت میں تبدیل کرنے اور غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی تازہ ترین کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے۔
’اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون کے ساتھ ساتھ متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اسے مسترد کرنا چاہیے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’قابض طاقت کا بین الاقوامی قانون کی مسلسل نظر اندازی اور اس کے اشتعال انگیز اقدامات خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے امکانات کو کمزور کر رہے ہیں۔
’پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی استثنیٰ کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنائے۔‘
سعودی عرب نے اس بات کی تصدیق کی کہ "اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر کوئی خودمختاری نہیں ہے۔" اس کے علاوہ "وہ غیر قانونی اقدامات جو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے، دو ریاستی حل کو نقصان پہنچاتے اور برادر فلسطینی عوام کے ایک خودمختار ریاست کے جائز حق پر حملے کی نمائندگی کرتے ہیں، سعودی مملکت نے انہیں مکمل طور پر مسترد کرنے" کا اعادہ کیا۔
اسرائیلی کابینہ نے اتوار کے روز مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کا کنٹرول مزید سخت کرنے اور آبادکاروں کو زمین کی خریداری میں سہولت دینے کے لیے مزید اقدامات کی منظوری دی۔ اس اقدام کو فلسطینیوں نے "ڈی فیکٹو الحاق" قرار دیا ہے۔
وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد میں کئی ایسے ارکان شامل ہیں جو اسرائیل کا مغربی کنارے سے الحاق چاہتے ہیں۔ اس اتحاد کے ووٹرز کی بڑی تعداد اسرائیلی آبادیوں میں موجود ہے۔ یہ زمین 1967 کی شرقِ اوسط جنگ میں قبضے میں لی گئی تھی۔
وزراء نے 1967 کے بعد پہلی بار زمین کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس سے ایک ہفتہ قبل مغربی کنارے میں نئے اقدامات کے ایک اور سلسلے کی منظوری دی گئی تھی جس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت ہوئی۔
انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کہا، "ہم آبادکاری کا انقلاب جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی زمین کے تمام حصوں پر گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔"
وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے زمین کی رجسٹریشن کو ایک اہم حفاظتی اقدام قرار دیا جبکہ کابینہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام "فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غیر قانونی اراضی کی رجسٹریشن کے عمل کا مناسب جواب" تھا۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس اقدام سے شفافیت کو فروغ اور زمینی تنازعات کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔
فلسطینی ایوانِ صدر نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا، یہ "مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا ایک ڈی فیکٹو الحاق اور الحاق کے منصوبوں کے آغاز کا اعلان ہے جس کا مقصد غیر قانونی آبادکاری کے ذریعے قبضہ مضبوط کرنا ہے۔"
اسرائیلی آبادکاری کے نگراں ادارے پیس ناؤ نے کہا ہے کہ یہ اقدام مغربی کنارے کے نصف حصے سے فلسطینیوں کی بے دخلی کا باعث ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کو مسترد کر دیا ہے لیکن ان کی انتظامیہ نے اسرائیل کی تیز رفتار آبادکاری کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔
اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے 2024 میں ایک غیر پابند مشاورتی رائے میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ اور وہاں آبادکاری غیر قانونی ہے اور اسے جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔ اسرائیل اس نظریے سے اختلاف کرتا ہے۔
اسرائیلی آباد کاری مخالف گروپ ’پیس ناؤ‘ نے کہا کہ یہ عمل ممکنہ طور پر فلسطینیوں کی زمین پر ’زمین پر بڑے پیمانے پر قبضے‘ کے مترادف ہے۔
پیس ناؤ کے سیٹلمنٹ واچ پروگرام کی ڈائریکٹر ہیگت اوفران نے کہا ’یہ اقدام بہت ڈرامائی ہے اور ریاست کو ایریا سی کے تقریباً تمام حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘
فلسطینیوں کے ساتھ 1990 کی دہائی میں طے پانے والے معاہدوں کے مطابق، ایریا سی مغربی کنارے کے اس 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے جو مکمل طور پر اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے دفتر نے ایک بیان میں اس فیصلے کو ’ایک سنگین پیش رفت اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جو ’عملی طور پر الحاق‘ کے مترادف ہے۔ صدارتی دفتر نے نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔