امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امن بورڈ کے رکن ممالک غزہ کے لیے پانچ ارب ڈالر سے بھی بڑی رقوم جمع کرائیں گے۔ بورڈ کے رکن ملک اس سلسلے میں باضابطہ اعلان جمعرات کے روز ہونے والی پہلی باقاعدہ میٹنگ میں کریں گے۔
یاد رہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ غزہ کو چلانے والے اس بورڈ کے بھی صدر ہیں۔ انہوں نے 19 فروری کو امن بورڈ کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں طلب کیا ہے۔
اتوار کے روز اس بارے میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ امن بورڈ کے رکن ممالک اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت بننے والی استحکام فورس کے لیے بھی اپنے ہزاروں فوجی بھجوائیں گے۔ یہ بات ٹرمپ کی طرف سے اپنے ',ٹروتھ سوشل' پر کہی گئی ہے۔
امریکی دفتر خارجہ کے مطابق امن بورڈ کا یہ اجلاس ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر صدارت جمعرات کے روز ڈونلڈ ٹرمپ 'انسٹی ٹیوٹ فار پیس' نامی تھنک ٹینک میں ہوگا۔
اس پہلے اجلاس میں بیس سے زائد رکن ممالک کے نمائندوں کے علاوہ کئی ممالک کے سربران حکومت بھی شریک ہوں گے۔ یہ امن بورڈ اقوام متحدہ کی منظوری سے قائم کیا گیا ہے۔ جس میں خلیجی ممالک کے علاوہ پاکستان اور ترکیہ بھی شامل ہیں اور کئی یورپی ممالک بھی اس میں شامل ہیں۔
امن بورڈ غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں پیش رفت شروع کرنے والا ہے۔ اس کی ماتحتی میں ایک عبوری انتظامیہ بنے گی جس کی سربراہی فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیر علی شاث کو سونپی گئی ہے۔