شام میں حسکہ کے روج کیمپ میں پھنسے ہوئے آسٹریلوی باشندے... کینبرا کا تعاقب کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے شمال مشرق میں حسکہ میں کردوں کے زیر انتظام چلنے والے روج کیمپ سے روانگی کے کچھ ہی دیر بعد داعش تنظیم کے ارکان کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 34 آسٹریلوی باشندوں کی واپسی کے بعد، آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے آج منگل کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت کیمپ میں مقیم کسی بھی آسٹریلوی کی وطن واپسی میں مدد نہیں کرے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت ان افراد کی واپسی کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ البانیزی نے اے بی سی نیوز نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "ہمارا موقف بہت سخت ہے کہ ہم شہریوں کو کوئی امداد فراہم نہیں کریں گے اور نہ انھیں واپس لائیں گے"۔

کل پیر کے روز دو ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ شمالی شام کے ایک کیمپ سے رہا کیے گئے 34 آسٹریلوی باشندوں کو "تکنیکی وجوہات" کی بنا پر دوبارہ کیمپ بھیج دیا گیا ہے۔ یہ بات خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتائی۔

دریں اثنا وزیر داخلہ ٹونی برک کے ایک ترجمان نے کہا کہ آسٹریلیا کے سکیورٹی ادارے شام کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ "اس گروپ کے افراد کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے اور وہ آسٹریلیا واپس آتے ہیں تو انہیں قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا"۔

آسٹریلیا داعش کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور اس تنظیم سے وابستگی کی سزا 25 سال تک قید ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ اگر دہری شہریت رکھنے والے افراد اس تنظیم کے رکن ہوں تو ان کی شہریت منسوخ کر دی جائے۔

داعش سے وابستگی کے شبہ میں زیر حراست افراد کے رشتہ داروں کی واپسی آسٹریلیا میں ایک سیاسی مسئلہ بن چکی ہے، اور یہ معاملہ امیگریشن مخالف دائیں بازو کی جماعت (ون نیشن) کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ سامنے آیا ہے جس کی سربراہ پولین ہینسن ہیں۔

اس ہفتے کے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ عوامی ووٹوں میں (ون نیشن) پارٹی کا حصہ 26 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے، جو اس وقت اپوزیشن میں موجود دائیں بازو کے اتحاد کی مجموعی حمایت سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب چند روز قبل انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذرائع اور عینی شاہدین نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ داعش کے غیر ملکی ارکان کے زیادہ تر خاندانوں نے مشرقی شام میں واقع الہول مخیم کو اس وقت چھوڑ دیا جب وہاں کا انتظام سنبھالنے والی کرد افواج وہاں سے پیچھے ہٹ گئیں۔ یہ بات اے ایف پی نیوز ایجنسی نے بتائی۔

اس کیمپ میں تقریباً 24 ہزار افراد مقیم تھے، جن میں تقریباً 15 ہزار شامی اور 42 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی لگ بھگ 6300 غیر ملکی خواتین اور بچے شامل ہیں، جن کے بیشتر ممالک انہیں واپس لینے سے انکار کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں