ایران کا انتباہ: اگر حملے ہوئے تو امریکی فوجی مراکز، اثاثہ جات 'جائز اہداف' ہوں گے

امریکہ کو متحارب رویے سے روکا جائے: سلامتی کونسل سے ایران کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنی دھمکیوں اور فوجی حملوں پر عمل کیا تو امریکی فوجی مراکز، تنصیبات اور اثاثہ جات اس کے "جائز اہداف" ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے اے ایف پی کے ملاحظہ کردہ ایک خط میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو یہ بات کہی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ کچھ عرصے سے شرقِ اوسط میں جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی اثاثہ جات تعینات کر دیے ہیں۔

خط میں ٹرمپ کی بدھ کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے کہا، "اگر ایران نے معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا" تو امریکہ کو برطانیہ کے فوجی مراکز استعمال کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے جس میں بحرِ ہند کے جزیرے کا ایک مرکز بھی شامل ہے۔"

"امریکہ کے صدر کا اس طرح کا متحارب بیان فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے جس کے نتائج خطے کے لیے تباہ کن اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہوں گے،" ایروانی نے خط میں لکھا۔

انہوں نے سلامتی کونسل – اقوامِ متحدہ کا فیصلہ ساز ادارہ جہاں واشنگٹن کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے – سے مطالبہ کیا کہ وہ "یہ یقینی بنائے کہ امریکہ فوری طور پر طاقت کے استعمال کی غیر قانونی دھمکیاں روک دے۔"

خط میں کہا گیا ہے کہ ایران "اپنے پرامن جوہری پروگرام سے متعلق ابہام دور کرتے ہوئے باہمی بنیادوں پر " اور ایک "سفارتی حل" کے لیے پرعزم ہے۔

لیکن ایروانی نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو فوجی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو "ایران کے دفاعی ردِ عمل کے تناظر میں خطے میں دشمن قوت کے تمام مراکز، تنصیبات اور اثاثہ جات جائز اہداف بنیں گے۔"

جمعرات کو ٹرمپ نے کہا، ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 دن ہیں اور دوبارہ کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکہ حملہ کرے گا۔

ان کے تبصرے منگل کو جنیوا میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بعد سامنے آئے۔ انہوں نے ایران کے اعلیٰ سفارت کار سے بالواسطہ ملاقات کی جنہوں نے کہا کہ معاملے میں پیش رفت ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں