ایران میں ہلاکتوں کےدوران کی اموات بارے ہمارے ڈیٹا پرشک ہےتو ثبوت لائیں:ایرانی وزیر خارجہ
امریکی صدر کا دعویٰ تھا کہ ایران میں مظاہروں کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر کسی کو ہمارے فراہم کردہ ڈیٹا کی صداقت پر شک ہے تو وہ اسے ثبوتوں کے ساتھ پیش کرے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ اپنے عوام کے سامنے مکمل شفافیت کے عہد کے مطابق ایرانی حکومت نے گذشتہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے تمام 3117 افراد کی جامع فہرست پہلے ہی جاری کر دی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تقریباً 200 اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہمارے اعداد و شمار کی درستی کو چیلنج کرتا ہے تو اسے شواہد کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔
صدارتی دفتر کا موقف اور شفافیت کی پالیسی
’ارنا‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی صدارتی دفتر نے شفافیت اور جوابدہی کی پالیسی کے تحت صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر حالیہ واقعات کے 2986 متاثرین کی فہرست جاری کی تھی۔ یہ فہرست فارنزک میڈیکل آرگنائزیشن کی جانب سے تیار کردہ ناموں کو سول رجسٹریشن آرگنائزیشن کے ڈیٹا سے مطابقت دینے کے بعد شائع کی گئی تھی۔
صدارتی دفتر نے 8 اور 9 جنوری کے واقعات کے حوالے سے جاری ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ان حالیہ ہنگاموں کے تمام متاثرین اسی وطن کے بیٹے ہیں اور کسی بھی سوگوار خاندان کو تنہا یا بغیر امداد کے نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس وطن کے دشمنوں اور بدخواہوں کے برعکس جو انسانی جانوں کو محض اعداد و شمار اور حساب کتاب سمجھتے ہیں اور انہیں بڑھا چڑھا کر سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے نزدیک یہ متاثرین صرف نمبر نہیں بلکہ ہر فرد اپنے آپ میں ایک مکمل معاشرے اور رشتوں کی دنیا کی نمائندگی کرتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ہمارے لیے ہر ایرانی پورے ایران کی نمائندگی کرتا ہے اور صدر اپنے اخلاقی فرض اور عوام سے کیے گئے عہد کے مطابق ان کے حقوق کے محافظ ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں نسبتاً مختصر عرصے کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم انہوں نے اس تعداد کا کوئی ذریعہ یا ماخذ بیان نہیں کیا۔
-
ایران پر محدود فوجی حملے پر غور کر رہا ہوں: امریکی صدر
ٹرمپ کے مطالبات پورے کرنے والے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں: ...
بين الاقوامى -
ایران میں افراد کو نشانہ بنانے یا حکومت کی تبدیلی کے اختیارات موجود ہیں: امریکی حکام
امریکی فوج ایران پر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے
بين الاقوامى -
امریکہ کے ساتھ معاہدے کا مسودہ دو دن میں تیار ہو جائے گا: ایرانی وزیر خارجہ
جوہری پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں، واحد حل سفارت کاری ہے: عباس عراقچی
بين الاقوامى