اسرائیل نے حزب اللہ کے میزائل یونٹ کو نشانہ بنایا ... لبنانی صدر کی حملوں کی مذمت

حزب اللہ کا اپنے 2 کمانڈروں سمیت 8 ارکان کی ہلاکت کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

لبنان میں گذشتہ روز (جمعہ) اسرائیلی حملوں کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔ اس دوران مشرق میں بقاع کے علاقوں اور جنوب میں صیدا کے مقام پر عین الحلوہ کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 12 ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں حزب اللہ تنظیم کے 8 ارکان شامل ہیں۔ یہ کشیدگی تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جاری بین الاقوامی رابطوں کے دوران سامنے آئی ہے، جبکہ وسیع تر جنگ میں شامل ہونے کے نتائج سے متعلق انتباہات بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز حزب اللہ کے میزائل یونٹ کے تین ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جہاں موجود ارکان کو ختم کر دیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے اشارہ کیا کہ یہ یونٹ حملوں کی منصوبہ بندی اور اپنی تیاریوں کو مضبوط کر رہا تھا، مزید یہ کہ میزائل یونٹ کی سرگرمیاں فائر بندی کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔

لبنانی صدر نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

اسرائیلی اخبار "معاریف" نے اس سے قبل رپورٹ دی تھی کہ لبنانی بقاع میں اسرائیلی فوج کے حالیہ حملوں میں حزب اللہ کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اخبار نے ذکر کیا کہ یہ میزائل وار ہیڈز سے لیس تھے اور فوری آپریشنل تعیناتی کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے اطلاع دی کہ لبنان کے علاقے بعلبک میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹرز پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم دس افراد مارے گئے جب کہ بیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں حزب اللہ کے چھ ارکان شامل تھے جن میں سے ایک کمانڈر حسین یاغی تھا۔ تاہم حزب اللہ کے ایک ذریعے نے "فرانس پریس" کو بتایا کہ جمعے کو مشرقی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں حزب اللہ کے آٹھ ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔

ہمارے نمائندے نے یہ بھی ذکر کیا کہ اسرائیل نے لبنان اور شام کی سرحد پر واقع مشرقی پہاڑی سلسلے میں بقاع کے قصبے نبی شیث کے مشرق میں واقع قصبہ الشعرة پر کم از کم چار حملے کیے۔ یہ حملے بدنایل کے میدانی علاقے اور تمنین التحتا تک بھی پہنچے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ حزب اللہ منظم طریقے سے شہری آبادی کے درمیان اپنے اثاثوں کو دوبارہ تعینات کرنے پر کام کر رہی ہے۔ فوج نے واضح کیا کہ جنگی بحری جہازوں کے ذریعے لبنان میں حزب اللہ اور حماس تنظیم کے ہیڈ کوارٹرز پر حملہ ایران کے بازوؤں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اگر طیارے مصروف ہوئے تو بحری جہازوں کے ذریعے حملے جاری رہیں گے۔

حماس تنظیم نے جنوبی لبنان کے عین الحلوہ کیمپ پر اسرائیلی حملوں میں اپنے دو ارکان کے جاں بحق ہونے کا اعلان کیا۔ ان حملوں میں عین الحلوہ کیمپ کے اندر حطین محلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے عین الحلوہ کیمپ میں حماس تنظیم کے زیرِ استعمال ایک ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

ردِ عمل میں لبنانی صدر جوزف عون نے ان حملوں کی شدید مذمت کی اور اسے ایک "کھلی جارحیت" قرار دیا۔ عون کے مطابق اس کا مقصد ان سفارتی کوششوں کو ناکام بنانا ہے جو لبنان امریکہ سمیت دوست ممالک کے ساتھ استحکام کے قیام اور لبنان کے خلاف اسرائیلی معاندانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے کر رہا ہے۔

"نیشنل نیوز ایجنسی" کے مطابق صدر عون نے کہا کہ یہ حملے لبنان کی خود مختاری کی ایک نئی خلاف ورزی اور بین الاقوامی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ عالمی برادری کے ارادے خصوصاً اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انکار کی عکاسی کرتے ہیں جو قرارداد 1701 کی مکمل پاسداری اور اس کے تمام نکات پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتی ہیں۔ انہوں نے خطے میں استحکام کے ضامن ممالک سے دوبارہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ان حملوں کو فوری طور پر رکوانے اور بین الاقوامی قراردادوں کے احترام کے لیے دباؤ ڈالیں، تاکہ لبنان کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہو سکے اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں