ایران پر سے پابندیاں اٹھائے جانے پر امریکہ و ایران کا نقطہ نظر مختلف ہے ، ایرانی عہدیدار
ایران اور امریکہ کے درمیان ایران پر لگائی گئی پابندیاں اٹھائے جانے اور ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں الگ الگ مؤقف برقرار ہے۔ یہ بات ایرانی عہدیدار نے اتوار کے روز خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو بتائی ہے۔
عہدیدار کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور ماہ مارچ میں متوقع ہے۔ اس عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران اس پر غور کر سکتا ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیئم کو ایران سے باہر منتقل کروادے لیکن اس کے بدلے میں ایران کو پر امن جوہری توانائی کی ضرورت کے تحت 'ان رچمنٹ' کی اجازت ملنی چاہیے اور ایران کا یہ حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔
ایرانی ذمہ دار نے مزید کہا دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور ہو سکتا ہے کہ عبوری معاہدہ ہو جائے۔ جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ ایران ایک مسودہ تیار کر رہا ہے۔ تاکہ ایرانی نقطہ نظر تفصیل کے ساتھ سامنے آجائے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ہفتے کہا ہے کہ وہ ایران پر محدود حملے کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
ایران کے سینیئر عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے تیل کے ذخائر اور معدنی وسائل کا کنٹرول امریکی کمپنیوں کے حوالے نہیں کرے گا۔
تاہم امریکی کمپنیاں کنٹریکٹرز کے طور پر ان کاروباروں کا حصہ بن سکتی ہیں۔
-
امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے: ایرانی صدر
عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے صف بندی کر رہی ہیں : مسعود ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کے مشیروں کی ایران پر حملے کی مخالفت، معیشت پر توجہ دینے کا مشورہ
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں اضافے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ...
بين الاقوامى -
امریکہ کے ساتھ مارچ کے آغاز میں مذاکرات ہوں گے:ایرانی عہدیدار کا انکشاف
مذاکرات کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوابی دھمکیوں اور مشرق وسطیٰ میں ...
مشرق وسطی