ایران پر سے پابندیاں اٹھائے جانے پر امریکہ و ایران کا نقطہ نظر مختلف ہے ، ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ایران اور امریکہ کے درمیان ایران پر لگائی گئی پابندیاں اٹھائے جانے اور ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں الگ الگ مؤقف برقرار ہے۔ یہ بات ایرانی عہدیدار نے اتوار کے روز خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو بتائی ہے۔

عہدیدار کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور ماہ مارچ میں متوقع ہے۔ اس عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران اس پر غور کر سکتا ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیئم کو ایران سے باہر منتقل کروادے لیکن اس کے بدلے میں ایران کو پر امن جوہری توانائی کی ضرورت کے تحت 'ان رچمنٹ' کی اجازت ملنی چاہیے اور ایران کا یہ حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔

ایرانی ذمہ دار نے مزید کہا دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور ہو سکتا ہے کہ عبوری معاہدہ ہو جائے۔ جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ ایران ایک مسودہ تیار کر رہا ہے۔ تاکہ ایرانی نقطہ نظر تفصیل کے ساتھ سامنے آجائے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ہفتے کہا ہے کہ وہ ایران پر محدود حملے کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

ایران کے سینیئر عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے تیل کے ذخائر اور معدنی وسائل کا کنٹرول امریکی کمپنیوں کے حوالے نہیں کرے گا۔

تاہم امریکی کمپنیاں کنٹریکٹرز کے طور پر ان کاروباروں کا حصہ بن سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں