مقبوضہ مغربی کنارا: رمضان المبارک کے دوران عورتوں اور بچوں سمیت 100 سے زائد فلسطینی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی قابض فوجوں نے رمضان المبارک میں بھی مغربی کنارے میں اپنی ظالمانہ کارروائیوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔ جگہ جگہ فوجی کارروائیوں اور کریک ڈاؤنز کے دوران اب تک 100 سے زائد فلسطینی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

اس امر کا اظہار اتوار کے روز فلسطینی قیدیوں سے متعلق سوسائٹی نے کیا ہے۔

'فلسطینی پرزنرز سوسائٹی' کے مطابق اسرائیل نے بعض سابق اسیران کو بھی گرفتار کیا ہے جو ماضی میں اسرائیلی جیلوں میں رہ چکے ہیں۔

سوسائٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ گرفتاریاں ایسے موقع پر کی ہیں جبکہ رمضان المبارک جاری ہے اور اسرائیلی فوج نے اپنی ان کارروائیوں کو تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثناء یہودی آباد کار بھی فلسطینیوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسیران سوسائٹی کے مطابق ان 100 سے زائد نئے اسیران میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لیے جانے پر اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا۔

دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ زیر حراست لیے گئے فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ ان کے گھروں کو مسمار کر دیا جاتا ہے اور گھروں کے سامان کو لوٹ لیا جاتا ہے۔اس دوران ان کی گاڑیاں اور گھروں سے زیورات بھی لوٹے گئے ہیں۔

'فلسطینی پرزنرز سوسائٹی' کے مطابق اسرائیلی فوج کا مغربی کنارے میں گرفتاریاں تیز کرنے کی ایک وجہ علاقے میں یہودی بستیوں کے نئے قیام کی راہ ہموار کرنا، فلسطینیوں کو ڈرا دھمکا کر علاقہ خالی کرنے پر مجبور کرنا بھی ہے۔

اس سلسلے میں یہودی آبادکار اسرائیلی فوج کے لیے ایک مؤثر آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

فلسطینی اسیران کے امور کے لیے قائم کمیشن کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو حراست کے دوران بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مستقل عمل ہے جو اسرائیلی ریاست اور اسرائیلی فوج نے اسرائیلی جیلوں میں جاری رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں