سفارت کاری کو ترجیح دی جائے تو معاہدہ ممکن ہے: ایرانی وزیر خارجہ

عمان کی ثالثی میں جنیوا مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے"۔ ان کا یہ بیان جنیوا میں دونوں ملکوں کے درمیان متوقع مذاکرات سے دو روز قبل سامنے آیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ "ایران جنیوا میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کم سے کم وقت میں ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے تک پہنچنے کے عزم کے ساتھ کرے گا"۔

اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا تھا کہ تہران امریکہ کے ساتھ معاہدے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کو تیار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہونے کے قریب ہے۔

ایرانی سفارت کار نے مزید کہا کہ ایران پر کوئی بھی امریکی حملہ "حقیقی جواء" ثابت ہو گا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ جلد از جلد معاہدے کے لیے تیار ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے خلیج کے سامنے اسلامی جمہوریہ کے جنوبی ساحل پر عسکری مشقیں شروع کر دی ہیں۔

تہران عسکری جوہری صلاحیتوں کے حصول کی تردید کرتا ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت، جس پر اس نے دستخط کر رکھے ہیں، شہری مقاصد بالخصوص توانائی کے شعبے میں پرامن جوہری پروگرام کے اپنے حق پر اصرار کرتا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک "انٹرنیشنل کرائسس گروپ" کی پیر کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق عمان کی ثالثی میں مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہونا طے ہے، تاہم اختلافات کی گہرائی کے باعث کسی معاہدے تک پہنچنا ایک "مشکل ہدف" ہو گا۔

توقع ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی ٹیم کو متن کا "پہلا مسودہ" پیش کریں گے، جس میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

ایک بڑی جنگ کا دہانہ

کرائسس گروپ کے تجزیہ کاروں نے لکھا ہے کہ "اسلامی جمہوریہ اور امریکہ تقریباً پانچ دہائیوں کی گہری دشمنی اور وقفے وقفے سے رابطوں کے بعد اب پہلے سے کہیں زیادہ ایک بڑے تنازع کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں واشنگٹن کے ارادے "اب بھی غیر واضح" ہیں، انہوں نے اشارہ کیا کہ خلیج میں تعینات بحری بیڑے کے حجم کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ ایک مہنگے اور افراتفری والے تنازع میں الجھنے کے بجائے "مختصر جنگوں کی طرف میلان" رکھتے ہیں جنہیں وہ آسانی سے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ انہوں نے تہران کے خلاف طاقت کے ممکنہ استعمال کا فیصلہ کرنے کے لیے خود کو "دس" سے "پندرہ دن" کی مہلت دی ہے۔ انہوں نے پیر کے روز ان رپورٹس کی تردید کی تھی جن میں کہا گیا تھا کہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے انہیں بڑے پیمانے پر عسکری مداخلت کے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جنرل ڈان کین "ہم سب کی طرح جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر عسکری سطح پر ایران کے خلاف کسی اقدام کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے، تو ان کی رائے میں یہ ایسی چیز ہے جسے آسانی سے جیتا جا سکتا ہے"۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی امریکی حملہ خواہ وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، اسے "بھرپور" جواب دینے پر مجبور کر دے گا اور ساتھ ہی علاقائی کشیدگی میں اضافے کے خطرے سے بھی آگاہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں