ہم ایران کا بحری بیڑا، اس کے میزائل اور ایٹمی پروگرام بھی مٹا دیں گے : ٹرمپ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف ایک وسیع اور مسلسل فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ بیان مختلف ایرانی علاقوں میں درجنوں مقامات کو نشانہ بنانے والی بم باری کے بیچ سامنے آیا ہے۔

ٹرمپ نے آج ہفتے کو ایک وڈیو خطاب میں مزید کہا کہ اس آپریشن کا مقصد امریکیوں کا تحفظ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایرانی میزائل پروگرام کو مٹانے کا عہد بھی کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک "اس بات پر کام کرے گا کہ ایران اب ایٹمی خطرہ نہ رہے۔"

علاوہ ازیں امریکی صدر نے اس جانب اشارہ کیا کہ "تہران نے کئی سالوں تک امریکی اہداف پر متعدد حملے کیے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ایرانی نظام دہائیوں سے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتا رہا ہے۔"

اسی طرح انہوں نے اپنے خطاب میں کہا "ممکن ہے کہ ہم امریکی فوجیوں کی جانیں گنوا دیں، لیکن جنگ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔" انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایرانی سرگرمیاں بیرون ملک امریکی افواج اور اڈوں کے لیے خطرہ ہیں۔

ہتھیار ڈال دو

ٹرمپ نے ایرانی پاسداران انقلاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "ہتھیار ڈال دو ورنہ ہم تمہیں ختم کر دیں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی نظام یہ جان لے گا کہ کوئی بھی امریکہ کو چیلنج نہیں کر سکتا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک ایرانی عوام کی حمایت کرتا ہے۔ ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: "آپ کی آزادی کی گھڑی قریب ہے۔" امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ایران نے اسے مسترد کر دیا۔

اس سے قبل آج ایک امریکی عہدیدار نے بتایا تھا کہ ان کا ملک توقع کر رہا ہے کہ ایران خطے میں امریکی اڈوں اور سفارت خانوں کو نشانہ بنائے گا۔ جبکہ ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ فوجی آپریشن امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی مہینوں سے کی جا رہی تھی اور اس کے نفاذ کا وقت ہفتوں پہلے طے کر لیا گیا تھا۔

اسی طرح اسرائیلی ذرائع نے قتل کی ایک فہرست (ہٹ لسٹ) کے بارے میں بات کی ہے، جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای، صدر مسعود پزشکیان اور دیگر شامل ہیں۔

حکومت گرانے کی کوشش

متعدد مبصرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اہداف کی فہرست بہت طویل اور متنوع ہے، جس میں میزائل مقامات سے لے کر ایٹمی مراکز تک شامل ہیں، اس کے علاوہ قتل کی کارروائیوں کا بھی امکان ہے۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ ان وسیع کارروائیوں کا مقصد "نظام کا خاتمہ" ہے۔

یہ ڈرامائی پیش رفت ہفتوں کی مسلسل امریکی دھمکیوں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا فوجی آپشن کے اشارے کے بعد سامنے آئی ہے، باوجود اس کے کہ عمانی ثالث کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے تین دور ہوئے تھے۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے کا بھرپور جواب دے گا اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں