جنگ کے نقارے بج اٹھے ... ٹرمپ ایران سے نا خوش اور مہلت ختم ہو رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران پر امریکی حملے کے قریب ہونے کے اشارے بڑھتے جا رہے ہیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ حال ہی میں امریکہ اور ایرانی فریق کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات سے مطمئن نہیں ہیں۔ اسی طرح وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی تہران پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے "غیر قانونی حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست" قرار دیا ہے۔

اس تناؤ کے پیش نظر کئی ممالک نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

تمام تر نظریں دو اہم ترین مواقع پر جمی ہیں۔ پہلا موقع آئندہ پیر کا ہے جب ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی شرکت کے ساتھ امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان تکنیکی ملاقاتیں ہوں گی۔ دوسرا اہم پڑاؤ وزیر خارجہ مارکو روبیو کا آئندہ پیر اور منگل کو اسرائیل کا دورہ ہے، جہاں خلاف معمول ان کے ساتھ کوئی صحافتی وفد موجود نہیں ہوگا، جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 فروری کو ایران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ جمعہ کے روز امریکی صدر نے دنیا کو انتظار کی کیفیت میں رکھا... ایک طرف انہوں نے ایٹمی مذاکرات پر مایوسی کا اظہار کیا تو دوسری طرف یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران پر ممکنہ حملوں کے بارے میں ابھی "حتمی فیصلہ" نہیں کیا گیا، باوجود اس کے کہ عمانی ثالث نے جنگ سے بچنے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران ہمیں وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے جو ہمیں حاصل ہونا چاہیے، وہ ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران سویلین مقاصد کے لیے بھی یورینیم کی افزودگی کرے۔

جنیوا مذاکرات میں ثالثی کرنے والے ملک سلطنت عمان نے ایک مثبت تصویر پیش کی ہے اور کہا ہے کہ ایرانی فریق نے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی تھی۔ البوسعیدی نے بتایا کہ تہران اپنے موجودہ ذخیرے کو کم ترین سطح پر لانے کے لیے کام کرے گا تاکہ اسے ایسے ایندھن میں تبدیل کیا جا سکے جسے دوبارہ افزودہ نہ کیا جا سکے۔

اگرچہ مذاکرات کا اگلا دور مارچ کے شروع میں ویانا میں ہونا ہے، لیکن دہائیوں بعد مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑے امریکی فوجی اجتماع کے درمیان یہ مذاکرات جنگ سے بچنے کا آخری موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں