حزب اللہ کا حیفا اور المطلۃ پر حملہ، اسرائیل کا بعلبک میں جوابی وار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

العربیہ/الحدث کی نامہ نگار نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے مشرقی لبنان کے شہر بعلبک کے علاقے العسیرہ پر فضائی حملہ کیا۔

بعلبک پر فضائی حملہ

انہوں نے بتایا کہ حملہ بعلبک شہر میں نحلہ جانے والی سڑک پر واقع علو کمپلیکس کے قریب ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا، جسے مکمل طور پر زمین بوس کر دیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں زخمیوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

لبنانی خبر رساں ایجنسی نے بھی بعلبک پر ہونے والے اس حملے میں متعدد افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔



ایجنسی کے مطابق ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائی میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے متوقع حملوں کے پیش نظر لبنان کے 16 دیہات اور قصبوں کے لیے انخلا کا انتباہ جاری کیا ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حزب اللہ نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ اس نے شمالی اسرائیل میں حیفا کی بحریہ بیس کو اپنے بارہویں حملے میں نشانہ بنایا۔

اسی دوران اسرائیل لبنان میں خصوصاً بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

حزب اللہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں مزید کہا کہ اس نے المطلۃ میں بھی ایک اسرائیلی اجتماع کو نشانہ بنایا ہے۔



جدید نوعیت کے میزائل

حزب اللہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ اسرائیلی گولہ باری کے جواب میں کیا گیا، جس میں درجنوں لبنانی شہروں اور قصبوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بیروت کا جنوبی مضافاتی علاقہ بھی شامل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کارروائی جدید نوعیت کے میزائلوں کی بوچھاڑ کے ذریعے انجام دی گئی۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے رات آٹھ بجے کے فوراً بعد اعلان کیا کہ متعدد راکٹ داغے جانے کا سراغ ملا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے ،انھوں نے سخت اور وسیع تر ردعمل کی دھمکی دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی حکومت اور عوام کو سمجھنا چاہیے کہ حزب اللہ انہیں ایسی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے جو ان کی جنگ نہیں ہے۔



خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ

یاد رہے کہ حزب اللہ نے دو روز قبل شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ فائرنگ شروع کی تھی، جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ یہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا انتقام ہے۔

لبنانی حکومت نے گزشتہ روز حزب اللہ کی فوجی اور سکیورٹی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم حزب اللہ نے خصوصاً بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر حملوں کے بعد راکٹوں اور ڈرونز کا استعمال جاری رکھا۔

رائٹرز کے مطابق حزب اللہ کے ایک سینئر رہنما نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل چاہے تو یہ جنگ کھلی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی لبنان کے دیہات سے تقریباً 30 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں