بیسویں صدی کی 1920 کی دہائی اور 1930 کی ابتدائی برسوں کے دوران جاپانی بحریہ نے 1922 کی واشنگٹن معاہدہ اور 1930 کی لندن معاہدہ پر شدید تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا۔
ان معاہدوں کے نتیجے میں امریکا اور برطانیہ کو سمندروں پر غالب قوت کے طور پر برتری حاصل ہو گئی تھی۔ان معاہدوں کے تحت مختلف ممالک کے بحری بیڑوں کے حجم اور طاقت کو محدود کر دیا گیا تھا۔
اس تقسیم میں امریکا اور برطانیہ کو جاپان کے مقابلے میں زیادہ بڑی بحری طاقت رکھنے کی اجازت دی گئی، جسے جاپان نے اپنے لیے ناانصافی قرار دیا۔
مزید برآں جاپانی بحریہ نے ملک کے سیاست دانوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ انہوں نے ان معاہدوں کو قبول کر لیا تھا۔
بعد ازاں جب فوجی رہنما سیاسی طاقت حاصل کرنے لگے تو جاپان نے آہستہ آہستہ ملک کو عسکری بنانے کی پالیسی اختیار کر لی اور یوں بحری ہتھیاروں کو محدود کرنے والے بین الاقوامی معاہدوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔
بحری اسلحہ سازی کا پروگرام
1934 کے آخر میں جاپان نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ وہ واشنگٹن اور لندن کے معاہدوں کی تجدید نہیں کرنا چاہتا۔ تقریباً دو سال بعد جاپان ان معاہدوں سے مکمل طور پر الگ ہو گیا اور اس کے بعد اس نے باقاعدہ طور پر بحری ہتھیاروں کے بڑے پروگرام کی تیاری شروع کر دی۔
اپنی منصوبہ بندی کے تحت جاپان نے وسیع وسائل مختص کیے تاکہ مزید طیارہ بردار جہاز، جنگی بحری جہاز (بوارج) اور تباہ کن جہاز (ڈسٹرائرز) تعمیر کیے جا سکیں۔
اسی سلسلے میں جاپان نے یاماتو (Yamato) کلاس کے بڑے جنگی بحری جہاز بنانے کا پروگرام شروع کیا۔ منصوبوں کے مطابق ان بوارج کا وزن 60 ہزار ٹن سے زیادہ ہونا تھا اور ان میں 460 ملی میٹر قطر کی دیوہیکل توپیں نصب کی جانی تھیں۔
بارج موساشی کی صلاحیتیں
1937 میں جاپانی بحریہ نے یاماتو کلاس کے دو جنگی جہاز بنانے کی منظوری دی۔ ان میں سے پہلے کا نام یاماتو رکھا گیا جبکہ دوسرے کو موساشی (Musashi) کا نام دیا گیا۔
موساشی کی تعمیر مٹسوبشی کے شپ یارڈز میں شروع ہوئی اور بالآخر 5 اگست 1942 کو یہ باضابطہ طور پر جاپانی بحریہ کی خدمت میں شامل ہو گئی۔
منصوبوں کے مطابق:
موساشی کی لمبائی تقریباً 263 میٹر تھی
اس کی چوڑائی تقریباً 39 میٹر تھی
اس کا کل وزن تقریباً 63 ہزار ٹن تھا
اسے طاقتور انجن دیے گئے تھے جن کی مدد سے یہ جہاز 27اعشاریہ5 ناٹ (سمندری میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر سکتا تھا۔
اسلحہ اور دفاعی نظامموساشی کو بھاری ہتھیاروں سے لیس کیا گیا تھا، جن میں شامل تھے:460 ملی میٹر کی 9 بڑی توپیں,155 ملی میٹر کی 12 توپیں,127 ملی میٹر کی 12 توپیں,25 ملی میٹر کی 36 طیارہ شکن توپیں,13اعشاریہ2 ملی میٹر کی 4 طیارہ شکن مشین گنز۔
اس کے علاوہ موساشی کے پاس تقریباً 6 سمندری طیارے (Seaplanes) رکھنے کی صلاحیت بھی تھی، جو عموماً جاسوسی اور نگرانی کے مشن کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
موساشی کا ڈوبنا
اپنے بہت بڑے حجم اور طاقتور توپوں کے باوجود موساشی نے بحرالکاہل کی جنگ میں زیادہ اہم فوجی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا۔
اس زمانے میں زیادہ تر لڑائیاں طیارہ بردار جہازوں اور فضائی جھڑپوں کے گرد گھوم رہی تھیں۔تاہم موساشی کی سروس زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکی۔
اکتوبر 1944 میں اس نے اپنی پہلی بڑی فوجی کارروائی میں حصہ لیا جو فلپائن میں خلیج لیٹے (Leyte Gulf) کی مشہور جنگ تھی۔
24 اکتوبر کو امریکی طیاروں اور آبدوزوں نے موساشی پر شدید حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اسے تقریباً 19 ٹارپیڈو اور 17 بموں کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی دن شام 7 بج کر 36 منٹ پر موساشی الٹ گئی اور پھر سمندر کی گہرائی میں تقریباً 1350 میٹر تک ڈوب گئی۔ اس حملے میں اس کے 2399 افراد پر مشتمل عملے میں سے 1023 ملاح ہلاک ہو گئے، جبکہ بچ جانے والوں کو فلپائن اور جاپان منتقل کر دیا گیا۔
موساشی کے ڈوبنے نے جاپانی بحریہ کے کمانڈروں کو شدید دھچکا پہنچایا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یاماتو کلاس کے جہازوں کو ڈبونا تقریباً ناممکن ہے۔لیکن اگلے ہی سال 1945 میں بارج یاماتو کا بھی تقریباً یہی انجام ہوا، جب اپریل 1945 میں امریکی افواج نے اسے بھی غرق کر دیا، جس پر جاپانی حکام حیرت اور صدمے میں مبتلا ہو گئے۔