خلیجی ملکوں سے محدود تعداد میں پروازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امارات اور اتحاد ایئر ویز نے اپنی پروازوں کو محدود پیمانے پر دوبارہ سے بحال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر ان پروازوں کو دنیا بھر کے اہم شہروں کے لیے شروع کیا جا رہا ہے۔

تاہم متحدہ عرب امارات جو کہ امارات ایئر لائنز کے ذریعے مسافروں کی آمد و رفت کا انتہائی اہم مرکز ہے میں اب بھی میزائل حملوں کا خطرہ موجود ہے۔

انہی میزائل حملوں کی وجہ سے امارات ایئرلائنز اور دیگر نے اپنی پروازیں روکنے کا اعلان کیا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں ابھی کشیدگی کے باعث زیادہ تر ایئرلائنز کی پروازیں بند ہیں کیونکہ ایران کی طرف سے ان ملکوں کو خطے میں نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے اور امریکی و اسرائیلی سفارتخانے موجود ہیں۔

ایران پر امریکہ و اسرائیل نے 28 فروری کو حملہ کر کے جنگ کا آغاز کیا تھا۔ جس کے بعد ایران نے خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے علاوہ متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب کی طرف بھی میزائل فائر کیے۔ جبکہ اسرائیل کے مختلف شہروں کو بھی ایرانی میزائلوں نے بطور خاص نشانہ بنایا۔

فرانس کے ایک چارٹرڈ طیارے نے جمعرات کے روز فرانس کے شہریوں کو متحدہ عرب امارات سے واپس فرانس پہنچایا ہے۔

فرانس کے وزیر ٹرانسپورٹ فلپ ٹاباروٹ کے مطابق علاقے میں اب بھی عدم استحکام کی فضا ہے۔ اس وجہ سے مسافروں کے عرب امارات سے اپنے ملکوں اور گھروں کو روانہ ہونے میں بعض مسائل کا سامنا ہے۔ پہلی ایسی پرواز جمعہ کی صبح اومان سے بحرین پہنچی۔

اسی طرح اومان سے برطانیہ کے شہریوں کو لے کر جانے والی پرواز نے بھی لندن میں صبح کے وقت لینڈ کیا۔ اس پرواز کو بھی اومان سے 'ری شیڈول' کر کے لندن بھیجا گیا تھا۔

ابو ظہبی سے تعلق رکھنے والی اتحاد ایئر بیس کی طرف سے جمعہ کے روز کہا گیا ہے کہ اس نے پروازوں کو جمعہ کے روز نئے سرے سے شروع کیا ہے۔ امید ہے کہ 19 مارچ سے اتحاد ایئر بیس کی پروازیں 70 مختلف مقامات کے لیے روانہ شروع ہوجائیں گی۔

دبئی ایئرپورٹ پر جمعرات کے روز آمد و رفت کو نارمل دیکھا گیا۔ جمعرات کے روز مسافروں کی دبئی ایئرپورٹ پر تعداد بدھ کے مقابلے میں دو گنا ہوگئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں