بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے جعمرات کے روز اس امر پر سخت تشویش ظاہر کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے سرحدی و جنوبی علاقے سے لوگوں کو ان کے گھروں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
'ہیومن رائٹس واچ' کے مطابق اس اسرائیلی اقدام سے بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا خدشہ ہے۔
یاد رہے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 8 اکتوبر2023 سے اس وقت معاملات تنازعے کا شکار ہوگئے جب اسرائیلی فوج اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور حملے غزہ جنگ کے تناظر میں شروع ہوئے۔
بعد ازاں اگست اور ستمبر 2024 کے دوران اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف مکمل جنگ شروع کر دی۔ ماہ ستمبر کے اواخر میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ اور کئی دیگر قائدین اور کمانڈر اسرائیلی بمباری کا شکار ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے خوفناک بمباری کر کے حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر سمیت کئی اہم مقامات حتیٰ کہ دارالحکومت بیروت کے مضافاتی علاقوں کو بمباری کا نشانہ بنایا اور خؤب تباہی پھیلائی۔
البتہ نومبر 2024 کو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوگیا۔ اس معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج ہر دوسرے چوتھے دن لبنان میں کارروائیوں کا کوئی نہ کوئی جواز پیش کرتے ہوئے بمباری یا ڈرون حملے کرتی رہتی ہے۔ جبکہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے سلسلے میں لبنانی حکومت نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔
ایران پر اسرائیل و امریکہ کے تازہ حملے کے بعد لبنانی حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل کے اندر راکٹ داغنے شروع کیے ہیں اور ایک بار پھر دونوں کے درمیان کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز لبنان کے جنوبی علاقوں کے رہائشی لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو خالی کر کے علاقہ چھوڑ دیں۔
انسانی حقوق گروپ نے کہا کہ اس طرح کے حکم کے بعد بوڑھے لوگ، بیمار، بچوں اور خواتین کے لیے خاص طور پر انتہائی مشکل صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں کو چھوڑ دیں۔ نیز یہ بھی اپنی جگہ سوال ہے کہ اپنے گھروں کو چھوڑنے کے بعد ان کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا۔ یہ سخت تشویشناک بات ہے کہ اسرائیل نے شہریوں کوجبری طور پر بے گھر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا۔
اسرائیل کے اس اعلان سے سخت تشویش پیدا ہوگئی ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی جنگی قانون کی بھی خلاف ورزی پر مبنی اعلان ہے۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ چند دنوں میں درجنوں لبنانی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دسیوں ہزار کو اپنے گھروں سے بے گھر ہونا پڑا ہے۔