ایرانی پاسداران انقلاب کا عراقی کردستان میں "مخالفین" کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

اتحادی افواج نے جمعے کے روز اربیل شہر کے اوپر بارود سے لدے ڈرونز مار گرائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے عراق کے علاقے کردستان میں "علیحدگی پسند گروہوں" کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ آج اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی 'تسنیم' کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ "آج صبح عراقی (کردستان) کے علاقے میں علیحدگی پسند گروہوں کے تین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا"۔ بیان میں مزید دھمکی دی گئی کہ "اگر خطے میں علیحدگی پسند گروہوں نے ایران کی علاقائی سالمیت کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھایا تو ہم انہیں کچل دیں گے"۔

کرد سکیورٹی فورسز نے اطلاع دی ہے کہ عراق میں امریکہ کے زیرِ قیادت اتحاد نے جمعہ کے روز اربیل شہر کے اوپر بارود سے لدے ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جن کا ملبہ ایک ہوٹل کے قریب گرا۔ کردستان میں انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ "بین الاقوامی اتحادی افواج کے دفاعی نظام نے اربیل کی فضائی حدود میں چار دھماکہ خیز ڈرونز کا مقابلہ کیا اور انہیں اہداف تک پہنچنے سے پہلے مکمل طور پر تباہ کر دیا"۔ بیان کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس سے قبل امریکہ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ جنگجو کردستان میں غیر ملکیوں کی آمد و رفت والے ہوٹلوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

جمعہ کے روز ایک مسلح شیعہ گروہ نے شمالی عراق (کردستان) کو ایران پر زمینی حملے کے لیے بطور لانچ پیڈ استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف انتباہ جاری کیا۔ گروہ نے اشارہ دیا کہ وہ شمالی عراق کو ایرانی عوام کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سختی سے مقابلہ کریں گے۔

اقلیم کردستان میں موجود ایرانی کرد اپوزیشن جماعتوں کے مراکز پر ایرانی افواج اور عراق میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جا رہے ہیں۔ عراقی وزیرِ اعظم محمد شیاع السودانی نے اقلیم کردستان کے صدر نيجرفان بارزانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں اقلیم کردستان سمیت عراقی شہروں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں