ایرانی پاسداران انقلاب کا تیل بردار جہاز پر ڈرون حملے کا دعویٰ

نیویگیشن پابندیوں کی خلاف ورزی پر آئل ٹینکر کو خودکش ڈرون سے نشانہ بنایا:پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ جہاز رانی پر عائد پابندیوں کو نظر انداز کرنے کی پاداش میں ایک تیل بردار جہاز کو خودکش ڈرون کے ذریعے نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا ہے کہ وہ ان امریکی فوج کے "منتظر" ہیں جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کو سکیورٹی فراہم کریں گی۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث اس وقت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نقل و حرکت تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے امریکی وزیر توانائی کریس رائٹ کے اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ امریکی بحریہ اس سٹریٹجک آبنائے میں جہازوں کی نگرانی کے لیے تیار ہے، کہا کہ "ہم ان کا انتظار کر رہے ہیں"۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ہم امریکیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سنہ 1987ء میں امریکی آئل ٹینکر 'برجٹن' کو لگنے والی آگ اور حال ہی میں نشانہ بننے والے تیل بردار جہازوں کو یاد رکھیں"۔

یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ اٹھائیس فروری 2026ءکو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی تھی کہ یہ حملہ ایران کی جانب سے مبینہ ایٹمی اور میزائل خطرات کے پیش نظر کیا گیا۔ ان امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کے کئی اہم ترین قائدین ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف عبدالرحیم موسوی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ بحرین، اردن، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں