نسلی فرق ،اندرونی کشیدگی اور فوجی دباؤ کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے بوسنیا یا خطے کے دیگر ممالک کی طرح ٹوٹنے کے امکانات کم ہیں ، کیونکہ ریاستی ادارے مضبوط ہیں اور علیحدگی پسند تحریکوں کی یہ صلاحیت نہیں کہ وہ ایک نئی سیاسی حقیقت قائم کر سکیں۔
یہ بات تجزیہ کارہ اور آزاد صحافی سمر خضر نے امریکی جریدے ''نیشنل انٹرسٹ ''میں شائع رپورٹ میں کہی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی اور سکیورٹی امور کی ماہر ہیں۔
خضر کے مطابق ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے مسلسل فوجی حملوں کے درمیان اس عمل کی شدت اور حجم نے اس تنازع کے ممکنہ اسٹریٹجک اختتام کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ایٹمی اور بیلسٹک پروگراموں کی ناکہ بندی کے علاوہ نظام میں تبدیلی کا مقصد بھی زیرِ بحث رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صرف فضائی قوت کے استعمال سے یہ بنیادی ہدف حاصل کرنا مشکل ہے۔ ایرانی سکیورٹی ادارے جس کی قیادت اسلامی گارڈز اور بسیج کے نیم فوجی دستے کرتے ہیں، ایک غیر مرکزیت یافتہ اور مقامی و قومی سطح پر جڑ پکڑی ہوئی ساخت رکھتے ہیں، جو دفاعی ڈھانچے کے مکمل زوال کو مشکل بناتی ہے۔
تاہم ایک دوسرا غیر مستحکم منظرنامہ بھی موجود ہے، جس میں مسلسل فوجی دباؤ اور قیادت میں اضطراب مرکزی طاقت کو کمزور کر سکتا ہے، ایسے منظم مسلح گروہوں کو ابھرنے کا موقع دے سکتا ہے ،جو امریکی فوج کی جگہ لے سکیں اور یہ کام صرف فضائی قوت سے ممکن نہیں۔
ایران کی آبادی نو کروڑ سے زیادہ ہے،یہ ایک کثیر نسلی ملک ہے۔ فارس اکثریت میں ہیں، جبکہ کرد، آذری، عرب، بلوچ اور دیگر اقلیتیں سرحدی علاقوں میں مرکوز ہیں۔
کئی سالوں سے ان میں سے بعض نے ایران کے خلاف مسلح کارروائیاں کی ہیں۔کرد مسلح گروہ سب سے زیادہ سرگرم اور تنظیم یافتہ ہیں اور ایران کے لیے سب سے بڑا مسلح خطرہ ہیں۔
حال ہی میں پانچ کرد ایرانی گروہوں نے عراق کے کردستان میں ایک اتحاد قائم کیا تاکہ ایران میں دینی نظام کو ختم کیا جا سکے۔
اس اتحاد میں حزبِ آزادی کردستان، ایرانی کردستانی جمہوری پارٹی، حزبِ زندگی آزاد کردستان، سازمان نضال کردستان ایران اور کومالا شامل ہیں۔
کچھ گروہوں نے ایران میں خودمختاری کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر علیحدگی چاہتے تھے، لیکن انہوں نے مربوط اور مؤثر سیاسی فریم ورک کے لیے اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حزب کومالا نے اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کے مطابق اتحاد میں عملی اقدامات اور عبوری مرحلے کی واضح حکمت عملی موجود نہیں تھی۔
تہران نے اس اتحاد کو سنگین خطرہ سمجھا اور حالیہ دنوں میں حزبِ آزادی کردستان اور ایرانی کردستانی جمہوری پارٹی کے مراکز کو عراق میں نشانہ بنایا۔
ایران کی کوشش ہے کہ یہ سرگرمیاں صرف عراقی علاقے تک محدود رہیں، لیکن کشیدگی بڑھنے سے یہ مشکل ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ کرد ایرانی گروہوں سے بات چیت کر رہا ہے کہ کب اور کیسے ایرانی سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں مسلح گروہوں کی حمایت کے لیے کھلے ہیں تاکہ نظام کو ہٹایا جا سکے۔
کرد گروہ سب سے زیادہ متوقع ہیں، لیکن وہ واحد نہیں۔ بلوچ علیحدگی پسند تنظیم "جیشِ عدل" نے چھوٹے بلوچ گروہوں کے ساتھ مل کر جب ''عوامی مزاحمت ''نامی تنظیم قائم کی۔ تواس اتحاد نے علیحدگی کا واضح مقصد نہیں دیا، بلکہ مختلف اقلیتوں کو اکٹھا کر کے نظام کو گرانا چاہتا ہے۔
تجزیہ کارہ کے مطابق یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ وسیع تعاون جاری رہے گا یا گروہ صرف علیحدگی پسند مطالبات پر واپس جائیں گے۔
نئے اتحاد نے حال ہی میں اپنا پہلا حملہ کیا، جس میں ایک فوجی کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔بلوچ اتحاد کو فی الحال مغربی حمایت حاصل ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ امریکہ نے ''جیشِ عدل '' کو 2019 میں دہشت گرد قرار دیا۔
بلوچ علیحدگی پسند کسی ممکنہ ایرانی سکیورٹی ڈھانچے کے زوال میں بڑا کردار نہیں ادا کر سکتے، لیکن وہ سکیورٹی خلاء سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ایران میں بلوچ علاقے سب سے غریب ہیں، جو نئے مسلح گروہوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔کرد اور بلوچ کے علاوہ، آذری اور عرب اقلیتیں شمال مغرب اور جنوب مغرب میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، لیکن ان کی مسلح سرگرمیاں محدود رہی ہیں۔ فی الحال کوئی آذری گروہ تہران کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں ہے، حالانکہ ترکی اور آذربائیجان کے قریب ہونے کی وجہ سے مقامی اضطراب یا بیرونی تعاون ممکن ہے۔
تہران نے جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد آذری مخالفین کو نشانہ بنایا اور باکو پر جاسوسی کی معلومات فراہم کرنے کا الزام لگایا۔
عرب کمیونٹیز میں بھی ممکنہ اضطراب سامنے آ سکتا ہے، لیکن منظم مسلح بغاوت کے امکانات کم ہیں۔ایران میں مسلح گروہوں کی طاقت میں اضافہ علاقائی ردعمل کو بھی متاثر کرے گا، خاص طور پر ترکی کی جانب سے اگر کرد زیادہ سرگرم ہوں۔
حزبِ زندگی آزاد کردستان کا حزبِ العمال کردستان کے ساتھ تعلق ترکی کی مخالفت اور ممکنہ امریکی-ترکی کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔
ترکی اپنی سرحد پر فوجی موجودگی بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان بلوچ بغاوت کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے وہ سرحدی اثرات کے لیے محتاط ہے۔
ایران اور اسلام آباد نے ہمیشہ سرحدی تحفظ اور بغاوت کے خاتمے میں تعاون کیا ہے۔ اسلام آباد ڈرتا ہے کہ اگر بلوچ علیحدگی پسند سرحدی خلاء پر قابض ہو گئے، تو یہ بلوچستان میں حملوں کا آغاز بن سکتا ہے۔
تجزیہ کارہ کے مطابق ایران کا علاقائی ٹوٹنا یا "بلقانائزیشن" غیر محتمل ہے۔ مختلف نسلی گروہ الگ الگ علاقوں میں موجود ہیں، لیکن وہ وسیع ریاستی ڈھانچے کے اندر معاشرتی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
اقلیتوں میں بھی فارسی قومیت کا احساس کئی اختلافات سے بڑھ کر ہے۔اگر کسی گروہ کے لیے علیحدگی ممکن ہو، تو کرد سب سے زیادہ متوقع ہیں، لیکن انہیں ترکی اور ایران کی شدید مخالفت کا سامنا ہوگا، چاہے حکومت کا نظام کچھ بھی ہو۔
مزید برآں موجودہ مسلح گروہوں میں انسانی وسائل، متحد نظریہ، قیادت یا مالی وسائل کی کمی ہےاور خارجی حمایت بھی محدود ہے، جو مستقل علیحدگی کے منصوبے کے لیے ناکافی ہیں۔
سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ اگر مرکزی طاقت کمزور ہوئی، تو مقامی بغاوتیں ابھر سکتی ہیں، سرحدی کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور ممکنہ طور پر خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔