شمالی عراق میں مقیم ایرانی کرد مسلح گروہوں کی جانب سے ایران کے مغربی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے امکان پر گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ کے ساتھ مشاورت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان خبروں کے درمیان شمال مشرقی شام کے کردوں نے ایرانی کردوں کو حکومتِ ایران کے خلاف جنگ کے لیے امریکہ کے ساتھ اتحاد کرنے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق، شامی کردوں نے گذشتہ چند ماہ کے دوران شام میں اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے اس بات کی دلیل قرار دیا کہ واشنگٹن اپنے ایرانی ہم منصبوں کو بھی "تنہا چھوڑ" دے گا۔
انہوں نے اس تجربے کو تلخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ایرانی کردوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے"۔ دوسری جانب ایک ایرانی کرد ذریعے نے بتایا کہ کرد رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی ویسا ہی دھوکا ہو سکتا ہے جیسا شمالی شام میں کرد گروہوں کے ساتھ ہوا۔
اس ذریعے نے مزید بتایا کہ ایرانی کرد رہنماؤں نے امریکہ سے ضمانتیں طلب کی ہیں، تاہم ان ضمانتوں کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔
شام میں کرد پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ احمد برکات نے ایرانی کرد قوتوں کے لیے "انتہائی احتیاط" برتنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ ان ہی کا ہے، لیکن ان کی نظر میں "امریکہ کی دعوت قبول کرنا اور ایرانی نظام کو کمزور کرنے یا اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہراول دستہ بننا فی الوقت ایرانی کردوں کے مفاد میں نہیں ہے"۔
واضح رہے کہ کرد ایک نسلی گروہ ہیں جن کی زبان فارسی سے ملتی جلتی ہے اور وہ آرمینیا، عراق، ایران، شام اور ترکیہ کی سرحدوں پر واقع پہاڑی خطے میں آباد ہیں۔ عراق میں وہ شمالی علاقوں کے تین صوبوں میں مقیم ہیں جہاں ان کی علاقائی حکومت قائم ہے۔ تاہم ایران، ترکیہ اور شام جیسے دیگر ممالک میں ایک آزاد ریاست یا علاقے کا خواب اب بھی ان کے لیے دور کی بات نظر آتا ہے۔
روئٹرز کے مطابق با خبر ذرائع نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ اسرائیل تقریباً ایک سال سے عراق کے نیم خود مختار علاقے کردستان میں مقیم ایرانی کرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ جمعرات کو کہا تھا کہ کرد فورسز کا شمالی عراق سے سرحد عبور کر کے ایران میں داخل ہونا "بہت اچھا" ہو گا۔ تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا ایسا کرنے کی صورت میں امریکہ انہیں فضائی مدد فراہم کرے گا یا نہیں۔ بعد ازاں ہفتے کے روز انہوں نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کرد جنگجو ایران میں داخل ہوں۔
-
اسرائیل: ایران کے داخلی سکیورٹی مقامات، میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا
اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے پیر کے روز وسطی ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا ...
مشرق وسطی -
سوشل میڈیا پر ایک مختلف قسم کی ایرانی جنگ، جعلی ویڈیوز کا استعمال
جیسے جیسے اسرائیل اور امریکہ کی ایران پر حملوں کا دائرہ وسیع ہوا اور ایران نے ...
بين الاقوامى -
امریکہ واہیات بہانوں سے اپنے حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے : ایرانی وزارت خارجہ
ایران کی اسرائیل و امریکہ کے ساتھ جنگ دسویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔وزارت خارجہ کے ...
مشرق وسطی