میں مجتبیٰ خامنہ ای کے ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہونے پر خوش نہیں ہوں: ٹرمپ کا پھر بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ گزشتہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے آغاز میں قتل ہونے والے اپنے والد کے جانشین کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کے ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہونے پر خوش نہیں ہیں۔ اخبار "نیویارک پوسٹ" کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای جونیئر کے انتخاب کے بعد اپنے اگلے اقدامات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ میں آپ کو نہیں بتاؤں گا۔ میں خوش نہیں ہوں۔

یہ بیان انہوں نے اس سے قبل مجتبیٰ کے بطور رہبرِ ایران انتخاب پر اپنی ناراضی کے اظہار کے بعد دیا۔ انہوں نے "فاکس نیوز" کو دیے گئے بیانات میں کہا "میں خوش نہیں ہوں۔" انہوں نے اتوار کو "اے بی سی نیوز" کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر امریکہ نے اسے قبول نہ کیا تو اگلا ایرانی سپریم لیڈر زیادہ دیر نہیں رہے گا۔

اسرائیل کی دھمکی

ایرانی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے اتوار کی شام 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کے جانشین کے طور پر ملک کا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب اسرائیل نے خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیل نے مجلسِ خبرگان کے ارکان کو نشانہ بنانے کا بھی کہا ہے۔

یاد رہے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس میں ایران کے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ پہلے دن کے حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور درجنوں فوجی و سیاسی رہنماؤں کو جاں بحق کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں