فلسطینی گروپ حماس نے ہفتے کے روز ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے جبکہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف تہران کے حقِ دفاع کی تصدیق بھی کی ہے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا، "بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کو تمام دستیاب ذرائع سے اس جارحیت کا جواب دینے کا حق ہے جس کی توثیق کرتے ہوئے تحریک ایرانی بھائیوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔"
غزہ میں اسرائیل کے ساتھ دو سال تک تباہ کن جنگ لڑنے والے گروپ حماس نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جاری جنگ کو فوری طور پر "روکنے کے لیے کام" کرے۔
گروپ نے قبل ازیں جنگ کے پہلے دن ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے قتل کو ایک "گھناؤنا جرم" قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے فلسطینی تحریک کی دیرینہ حمایت کا برملا اعتراف کیا تھا۔
تحریک نے خامنہ ای کی ہلاکت کے فوراً بعد کہا، "انہوں نے ہمارے لوگوں، ہمارے مقصد اور ہماری مزاحمت کو ہر طرح کی سیاسی، سفارتی اور فوجی حمایت فراہم کی۔"