ایران کی تیل کی پیداوار اور برآمدات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں، پارلیمانی توانائی کمیشن کے ترجمان نے منگل کو بتایا اور مزید کہا ہے کہ جزیرہ خارگ پر روزمرہ زندگی حسبِ معمول جاری ہے۔
جزیرہ خارگ تیل کی برآمد کے اہم ایرانی مرکز کا کام دیتا ہے جو اوپیک کے رکن ممالک کی تیل کی ترسیل کا 90 فیصد حصہ بنتا ہے۔ امریکہ نے گذشتہ ہفتے اس جزیرے پر موجود فوجی اثاثہ جات کو نشانہ بنایا تھا۔
کمیشن کے ترجمان جو ایک قانون ساز بھی ہیں اور نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جن کا حوالہ دیا ہے، نے ایران کی اُس دھمکی کا اعادہ کیا کہ جزیرہ خارگ پر کوئی بھی غیر ملکی حملہ آبنائے ہرمز سے زیادہ ذلت کا باعث بنے گا۔ یہاں تہران نے ان جہازوں کو گذرنے سے روک رکھا ہے جو اس کے بقول امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں سے منسلک ہوں۔