"سینٹرل کمانڈ" کی ایران کے ہاتھوں کسی بھی امریکی جنگی طیارے کے تباہ ہونے کی تردید

"سینٹکام" کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک ان کے 200 اہل کار زخمی ہو چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کی تردید کر دی ہے جس میں خطے میں موجود امریکی لڑاکا طیاروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

سینٹکام نے آج منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا "ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا یہ دعویٰ کہ اس نے حال ہی میں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خطے میں تعینات متعدد امریکی لڑاکا طیاروں کو تباہ کر دیا ہے، سراسر جھوٹ ہے۔"

بیان میں مزید کہا گیا "ایرانی حملوں میں کسی بھی امریکی لڑاکا طیارے کو نقصان نہیں پہنچا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی بحریہ، فضائیہ اور میرین کور کے طیاروں نے ایران پر فضائی حملوں کی لہروں کے دوران بے مثال فضائی برتری اور جنگی تاثیر کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی اصل حقیقت ہے۔"

اس سے قبل پیر کے روز سینٹ کام نے اعلان کیا تھا کہ 6500 جنگی پروازوں کے ذریعے ایران کے 7000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور 100 سے زائد ایرانی بحری جہاز تباہ کیے گئے ہیں۔

سینٹکام کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز نے بتایا کہ زخمی ہونے والے اہل کاروں کی اکثریت کو معمولی نوعیت کے زخم آئے تھے اور 180 سے زائد فوجی پہلے ہی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔ اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگان) نے 10 مارچ تک 140 فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت وزارتِ دفاع نے ذکر کیا تھا کہ ان میں سے 8 اہل کاروں کی حالت تشویشناک ہے۔ اس سے قبل ایک امریکی اہل کار نے اس سے قبل سی این این کو بتایا تھا کہ "شدید زخمی" کے زمرے میں وہ کیسز شامل ہیں جن میں حالت انتہائی نازک ہو یا موت کا خدشہ ہو۔

جنگی کارروائیوں کے دوران اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی تعداد میں اتار چڑھاؤ یا اضافہ غیر معمولی نہیں ہے، کیونکہ زخم کی نوعیت اور شدت کے لحاظ سے بعض اوقات فوجی واقعے کے فوراً بعد طبی امداد کے لیے رجوع نہیں کرتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں