عراق کی ایران سے ابنائے ہرمز سے تیل کے ٹینکرز گزارنے کی درخواست
عراق کے وزیرِ تیل حیان عبد الغنی نے منگل کے روز تصدیق کی کہ ان کی حکومت ایران کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ عراقی تیل ٹینکرز کو ابنائے ہرمز کے راستے سے گزرنے کی اجازت دی جا سکے۔
یہ اقدام اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ حالیہ حملوں کے بعد خام تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کو کم کیا جا سکے، جیسا کہ عراقی خبر رساں ایجنسی ''واع'' نے رپورٹ کیا ہے۔
عراق اوپیک (OPEC) کے ابتدائی ممالک میں شامل تھا، جنہوں نے جنگ کے آغاز کے بعد پیداوار کم کر دی تھی۔ اس وقت پیداوار تقریباً 1اعشاریہ2 ملین بیرل یومیہ رہی، جو پہلے 4اعشاریہ3 ملین بیرل یومیہ تھی۔
عبد الغنی نے پیر کو اعلان کیا کہ عراق تیل برآمد کرنے کے لیے شام کی بندرگاہ بانیاس اور اردن کی بندرگاہ العقبہ کے ذریعے بولیاںشروع کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات رک گئی ہیں اور عراق بنیادی طور پر خام تیل کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے اور وزارتِ تیل بڑی کوشش کر رہی ہے کہ جیھان بندرگاہ سے خام تیل برآمد کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا:ہم نے بانیاس (شام) اور العقبہ (اردن) کی بندرگاہوں کے ذریعے خام تیل برآمد کرنے کے لیے مناقصے شروع کیے ہیں۔ آنے والے دو دنوں میں خام تیل کی برآمد کے ٹھیکے جاری کیے جائیں گے۔
عبد الغنی نے یہ بھی واضح کیا کہ چونکہ عراق اور شام یا العقبہ کے لیے پائپ لائن دستیاب نہیں، اس لیے خام تیل کی ترسیل کے لیے ٹینکروں کا استعمال کیا جائے گا۔
ترک بندرگاہ جیھان کے ذریعے برآمدات
عراق کے وزیرِ تیل حیان عبد الغنی نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ عراق جیھان (ترکی) بندرگاہ کے ذریعے خام تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک بند پائپ لائن کو فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے ذریعے تیل براہِ راست بھیجا جا سکے گا اور اسے کردستان کے علاقے سے گزارنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
عبد الغنی کے مطابق عراق ایک 100 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے حصے کا معائنہ آئندہ ایک ہفتے میں مکمل کرے گا، تاکہ کرکوک سے براہِ راست خام تیل برآمد کیا جا سکے۔
یہ منصوبہ کرکوک-جیھان پائپ لائن کو دوبارہ کھولنے کے لیے ہے، جو گزشتہ دس سال سے بند رہی ہے۔ اس سے ہرمز کے تنگ راستے کے ذریعے برآمدات پر پڑنے والے خطرات کے دوران ایک متبادل راستہ فراہم ہوگا۔960 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن 2014 میں بند ہو گئی تھی، جب اس پر مسلسل حملے ہوئے اور یہ عالمی تیل کی تقریباً 0.5 فیصدسپلائی فراہم کرتی تھی۔
وزارتِ تیل کے مطابق ابتدائی طور پر اس کے ذریعے روزانہ تقریباً 250000 بیرل خام تیل برآمد کیا جا سکتا ہے، جو بعد میں کردستان کے تیل کو شامل کرنے سے 450000 بیرل یومیہ تک بڑھ سکتا ہے۔
بغداد نے پہلے کردستان کے پائپ لائن کو عارضی راستہ کے طور پر استعمال کیا، لیکن حکومت نے الزام عائد کیا کہ کردستان کی حکومت نے اس کے استعمال پر سخت شرائط عائد کی ہیں اور اگر برآمدات روکی گئیں تو قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دی۔
کردستان کی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ برآمدات میں رکاوٹ نہیں ڈال رہی اور بغداد کی حکومت نے تیل کے شعبے کے سامنے درپیش حفاظتی اور اقتصادی چیلنجز پر قابو پانے میں ناکامی دکھائی۔