امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور خطے پر اس کے اثرات کے پیشِ نظر سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ریاض آج بدھ کی شام عرب اور اسلامی ممالک کے وزراءِ خارجہ کے ایک مشاورتی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔
وزارت نے ایک بیان میں واضح کیا کہ اس اجلاس کا مقصد خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے تحفظ کے طریقوں پر مزید مشاورت اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
جنگ کے 19ویں دن خلیجی ممالک کے خلاف ایران کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں، سعودی سفارت کاری نے ایرانی حملوں کے حوالے سے مشترکہ خلیجی سیاسی ہم آہنگی کی رفتار تیز کر دی ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلیج تعاون کونسل کے ممالک اب بھی ضبطِ نفس اور استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں، جو کہ ان ممالک کی خارجہ پالیسی کا ایک راسخ اصول ہے۔
تستضيف المملكة العربية السعودية في العاصمة الرياض مساء اليوم الأربعاء 29 رمضان 1447هـ الموافق 18 مارس 2026م، اجتماعاً وزارياً تشاورياً لوزراء خارجية مجموعة من الدول العربية والإسلامية بهدف المزيد من التشاور والتنسيق حيال سبل دعم أمن المنطقة واستقرارها. pic.twitter.com/oZ782Q5ODL
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) March 18, 2026
واضح رہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ریاض نے متعدد خلیجی اور عرب دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے کیے ہیں تاکہ ان بزدلانہ ایرانی حملوں کے خلاف فوری مشاورت اور ہم آہنگی کو بڑھایا جا سکے جنہوں نے چھ ممالک کو متاثر کیا ہے۔ ان ممالک نے ظالمانہ ایرانی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کے حق کی تصدیق کی ہے۔ ان رابطوں کے ذریعے ریاض ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ خلیج کی سکیورٹی ناقابلِ تقسیم ہے اور یہ موجودہ بدلتے ہوئے حالات میں خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ایک متحد خلیجی موقف قائم کرنے کی ریاض کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔