عراق سے خلیجی ممالک کے سفارتی مشن مکمل طور پر نکل چکے: ذرائع العربیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بغداد میں جاری حالیہ کشیدگی کے باعث مختلف ممالک کے سفارتی مشن عراق سے روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں جبکہ ذرائع نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ خلیجی ممالک کے سفارتی مشن عراق سے مکمل طور پر رخصت ہو چکے ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ متعدد عرب ممالک کے سفارتی مشنز نے بھی حال ہی میں عراق میں اپنی نمائندگی کی سطح کو کم کر دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عراقی حکومت نے محمد شیاع السوڈانی کی زیر صدارت منعقدہ اپنے ہفتہ وار اجلاس کے دوران ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت سفارتی مشنوں، سفارت خانوں اور قونصل خانوں پر کسی بھی قسم کے حملے کو مسترد کرتی ہے اور ایسے اقدامات کو دہشت گردانہ کارروائیاں قرار دیتی ہے جن کا مقصد ملک کی سکیورٹی اور استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔

عراقی حکومت نے اپنی سکیورٹی فورسز کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے جو ملک بھر میں سکیورٹی اور استحکام برقرار رکھنے اور ان حملوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔

دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ جج فائق زیدان نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ ملک میں سفارتی مشنوں پر حملے کا جرم عراق پر سیاسی یا اقتصادی پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے یا ان مشنوں کو کسی بھی حملے، قبضے یا نقصان سے بچانے کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے نتیجے میں ملک کو بین الاقوامی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فائق زیدان نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ عراقی قانون ان افعال پر سزا دیتا ہے جو سفارتی مشنوں پر حملے کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق میں سفارت خانوں اور تمام سفارتی اداروں پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا موت تک ہو سکتی ہے۔

متواتر حملے

یہ سخت بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بغداد میں امریکی سفارت خانے اور عراقی کردستان کے شہر اربیل میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کو مسلح گروہوں کی جانب سے ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہ گروہ ملک کے اندر سفارتی مشنوں اور غیر ملکی افواج کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اٹھائیس فروری سنہ 2026ء کو جنگ کے آغاز کے بعد سے عراق نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور بغداد ایئرپورٹ کے قریب متعدد ڈرون طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبہ کردستان کے دارالحکومت اربیل میں بھی فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو ناکام بنایا جو شہر کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ اربیل ایئرپورٹ پر بین الاقوامی اتحاد کی افواج مقیم ہیں جو سنہ 2014 سے واشنگٹن کی قیادت میں داعش کے خلاف برسرپیکار ہیں اور وہاں امریکہ کا ایک بڑا قونصل خانہ بھی موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں