ایران : لاریجانی کے جانشین کے طور پر حسین دہقان کے تقرر کی خبروں کی تردید
حسین دہقان ایران کے سابق وزیر دفاع ہیں
ایران میں "مستضعفین فاؤنڈیشن" نے جس کی سربراہی اس وقت سابق وزیر دفاع حسین دہقان کر رہے ہیں ... ان گردش کرتی ہوئی خبروں کی تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دہقان کو چند روز قبل اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے علی لاریجانی کی جگہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔
نیوز ایجنسی "تسنیم" نے ادارے کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ "گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران بعض میڈیا ذرائع نے حسین دہقان کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سکریٹری جنرل مقرر کیے جانے کی خبر نشر کی ہے، تاہم یہ معلومات درست نہیں ہیں"۔
اس سے قبل آج جمعرات کے روز روسی خبر رساں ایجنسی "ٹاس" نے ذکر کیا تھا کہ ایران کے سابق وزیر دفاع حسین دہقان کو علی لاریجانی کی جگہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام نے 17 مارچ کو اسرائیلی-امریکی حملے کے نتیجے میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ بعد ازاں 18 مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا تھا کہ لاریجانی کی ہلاکت سیاسی نظام کے استحکام پر اثر انداز نہیں ہو گی۔
لاریجانی کا تعلق ملک کے ایک ممتاز مذہبی خاندان سے تھا اور ان کے بھائیوں نے 1979 کے انقلاب کے بعد اعلیٰ عہدوں پر کام کیا۔ انھیں ایک ماہر سیاست دان اور عملی انسان کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن ساتھ ہی وہ ملک کے نظامِ حکومت کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی محتاط رہتے تھے۔
اس کے علاوہ لاریجانی نے ایران عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر کے طور پر کام کیا، جس کے بعد انھوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے کی سربراہی سنبھالی۔ بعد ازاں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی صدارت کے ساتھ ساتھ اپنے پارلیمانی سفر کا آغاز کیا جو 12 سال تک پارلیمنٹ کی اسپیکر شپ پر ختم ہوا۔
لاریجانی نے وسیع ذمہ داریاں نبھائیں جن میں مغرب کے ساتھ ایٹمی مذاکرات، خطے میں تہران کے تعلقات کا انتظام اور اندرونی بد امنی کو کچلنے جیسے حساس معاملات شامل تھے۔
سابق مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے مطلق اقتدار کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کے باوجود، لاریجانی نے دیگر سخت گیر شخصیات کے مقابلے میں زیادہ محتاط رویہ اپنانے کی دعوت دی۔ وہ بعض اوقات سفارت کاری کے ذریعے ایران کے اہداف حاصل کرنے اور اندرونی اپوزیشن کے ساتھ نرم لہجے میں نمٹنے کی طرف مائل رہتے تھے۔
رپورٹوں میں اشارہ کیا گیا ہے کہ لاریجانی نے گذشتہ جنوری میں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کو کچلنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں مظاہرین ہلاک ہوئے، اسی وجہ سے روئٹرز کے مطابق واشنگٹن نے گذشتہ ماہ ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
-
اسرائیل کا ایران کے خلاف جنگ کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کا دعویٰ
ایران کے خلاف جنگ جمعرات کو اپنے بیسویں دن میں داخل ہو چکی ہے جس کے اثرات پورے خطے ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے ایرانی میزائلوں کو روک لیا، تل ابیب میں پانچ مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے
امریکی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی بحری ...
مشرق وسطی -
امریکی جامعات میں اہم عہدوں پر فائز ایرانی حکام کے بچوں کے بارے میں جانیے
سرکاری سیاسی بیانیے اور ایرانی حکمران طبقے کے بچوں کی امریکہ میں موجودگی کے بیچ ...
بين الاقوامى