امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف اپنے جنگی شراکت داراسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایران کے گیس کے ذخائر پر مزید حملوں سے روکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات جمعرات کے روز کہی ہے۔ ایران نے اپنے ان گیس ذخائر پر اسرائیلی بمباری کے بعد اپنے سے پہلے اعلان کے مطابق قطر توانائی کے مراکز کو ردعمل میں نشانہ بنایا تھا۔
ٹرمپ نے اس بارے میں نیتن یاہو سے ہونے والی بات چیت کے حوالے سے کہا 'یہ نہ کریں، اسے اب دوبارہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔' ٹرمپ نے اس امر کا اظہار جاپانی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد رپورٹرز سے گفتگو میں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک اچھی بات ہے کہ بدھ کے روز ایرانی گیس ذخائر پر حملہ مل کر کیا گیا تھا۔ مگر اب چونکہ امریکہ اس کے حق میں نہیں ہے اس لیے وہ اس طرح کا کچھ کرے گا۔
اسرائیل کا ایرانی گیس ذخائر پر حملہ بدھ کے روز ہوا تھا اور امریکہ کے ساتھ مل کر کیا گیا تھا۔ لیکن اب تین اسرائیلی حکام نے جمعرات کے روز کہا ہے غالباً اب ایسا نہیں ہوگا۔ اس کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کچھ نہیں جانتے۔
اسرائیل اور امریکہ کے اس حملے کے بعد ایران نے ردعمل میں قطری گیس فیلڈ پر اور انفراسٹرکچر پر حملہ کر دیا۔ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ کا تیسرا ہفتہ چل رہا ہے۔ ایران جوابی میزائل حملوں میں علاقے میں امریکی فوجی و دیگر تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ جبکہ اسرائیل بھی ایرانی نشانے پر ہے۔
اسرائیل نے کھلےعام ایرانی گیس ذخائر کے مرکز پارس پر حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ یہ حملے بدھ کی رات کیے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس بارے میں اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا اس حملے کے بارے میں واشنگٹن کچھ نہیں جانتا اور اب اسرائیل کو بھی گیس ذخائر پر مزید حملے نہیں کرنے چاہییں۔
اسرائیلی حکام نے صدر ٹرمپ کے اس تبصرے پر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ کہا 'ہمارے لیے ٹرمپ کا یہ کہنا حیران کن نہیں ہے۔'
اسرائیل کے اس حملے کے بعد ایران نے دنیا کے سب سے بڑی قطری گیس پلانٹ پر حملہ کرکے کافی زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ جبکہ سعودی آئل ریفائنری اور عرب امارات کو اپنی گیس سے متعلق سہولیات کو بند کرنا پڑا ہے۔