قطری وزارت داخلہ نے علاقائی سمندری حدود میں ہیلی کاپٹر گرنے کے حادثے کے بعد لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے جاری کوششوں کے نتیجے میں آج ساتویں لاپتہ شخص کی لاش برآمد کر لی ہے۔
اس سے قبل قطری وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں مسلح افواج کے 3 قطری اور 3 ترکیہ کے باشندے شامل ہیں تاہم ساتویں لاپتہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔
بيان صحفي حول عمليات البحث والإنقاذ بشأن حادث سقوط الطائرة المروحية في المياه الإقليمية للدولة. #الداخلية_قطر pic.twitter.com/Xoo7hhqvb4
— وزارة الداخلية - قطر (@MOI_Qatar) March 22, 2026
تکنیکی خرابی کے باعث حادثہ
یہ پیش رفت قطری وزارت دفاع کی جانب سے آج اس اطلاع کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کی علاقائی حدود میں ایک قطری ہیلی کاپٹر "تکنیکی خرابی" کے باعث گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس کے عملے اور مسافروں کی تلاش جاری ہے۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ایک قطری ہیلی کاپٹر معمول کی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے تکنیکی خرابی کا شکار ہوا جس کے نتیجے میں وہ ریاست کی علاقائی حدود میں سمندر میں گر گیا۔ قطری حکام نے اس مشن کی نوعیت واضح نہیں کی ہے۔
دوسری جانب اب تک سامنے آنے والی معلومات میں اس حادثے اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان کسی تعلق کا اشارہ نہیں ملا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ 28 فروری کو ایران اور دوسری جانب اسرائیل و امریکہ کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے قطر کی سرزمین کی طرف کئی ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے گئے ہیں جن میں سے اکثر کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا ہے۔
اسی طرح رواں ہفتے قطر میں مائع قدرتی گیس کی پیداوار کی تنصیب "رأس لفان" کو بھی ایرانی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔