اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے موقف اختیار کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کو اسرائیل کے ساتھ حدِ فاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے پڑوسی ملک کے نصف حصے پر قبضے کا مطالبہ کیا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
بزلئیل سموٹریچ نے مزید کہا کہ "جس طرح ہم غزہ کی پٹی کے 55 فیصد حصے پر قابض ہیں، ہمیں لبنان میں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے"۔
یہ بیانات ان لاکھوں بے گھر لبنانیوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آئے ہیں جنہیں جنوبی لبنان سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں میں توسیع کا اعلان کیا تھا، جس میں 91 ویں ڈویژن کے ساتھ اب 36 واں ڈویژن بھی شامل ہو گیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان کے وہ رہائشی جو نقل مکانی پر مجبور ہوئے، وہ اس وقت تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے جب تک سرحد کے قریب اسرائیلیوں کی سلامتی کو یقینی نہیں بنا لیا جاتا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل آبادی کو بے گھر کر کے جنوبی سرحد پر ایک نیا ’فیلڈ اسٹیٹس کو‘ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے حالیہ اقدامات ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس تناظر میں ہیومن رائٹس واچ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ تنظیم نے اسرائیلی اقدامات اور حکام کے بیانات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے حامی ممالک کو ان خلاف ورزیوں کے جاری رہنے کی صورت میں قانونی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
اسرائیلی جنگی طیاروں نےسوموار کو علی الصبح جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ میں قعقعیہ پل کو تباہ کر دیا جس سے آمد و رفت مکمل طور پر منقطع ہو گئی ہے۔ یہ کارروائی دریائے لیطانی پر موجود پلوں اور گزرگاہوں کو نشانہ بنانے کی ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک نشانہ بننے والے پلوں کی تعداد 4 ہو گئی ہے، جن میں ضلع نبطیہ کا قعقعیہ پل، ضلع صیدا کا زرایۃ پل اور ضلع صور میں شاہراہِ عام پر واقع قاسمیہ پل اور اندرونی سڑک پر موجود کنایات پل شامل ہیں۔ یہ گزرگاہیں دریائے لیطانی کے دونوں کناروں کو ملانے والی اہم شریانیں ہیں اور بمباری کے نتیجے میں دریا پر موجود 5 بڑے پلوں میں سے 3 تباہ ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے، خصوصاً جب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو حکم دیا ہے کہ دریائے لیطانی پر موجود ان تمام پلوں کو تباہ کر دیا جائے جو جنوب کو دارالحکومت بیروت یا ملک کے مشرقی حصے میں واقع مغربی بقاع سے ملاتے ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون عام طور پر فوجوں کو شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے روکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والی جنگ کے اثرات 2 مارچ کو لبنان تک پہنچ گئے تھے، جب حزب اللہ نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں جنوب سے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون داغے تھے۔ جواب میں اسرائیل نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ، دارالحکومت کے وسطی علاقوں، جنوب اور مشرق میں شدید فضائی حملے کیے اور اس کی افواج جنوب کے نئے علاقوں میں داخل ہو گئیں۔
لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک بچوں سمیت ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد 600 سے زیادہ اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔