ایران کی جانب سے ڈیاگو گارسیا کو نشانہ بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا: برطانیہ و نیٹو

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس اڈے کو نشانہ بنانے کے حوالے سے اسرائیلی دعوے گمراہ کن ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹامر نے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی تشخیصی رپورٹ موجود نہیں جو اس بات کی تصدیق کرے کہ ایران نے ڈیاگو گارسیا کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مستقل جائزہ لیتی رہتی ہے اور فی الوقت اڈے پر کسی حملے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

کیئر اسٹامر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی بھی کوشش میں گہری سوچ بچار اور قابلِ عمل منصوبے کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی اولین ترجیح برطانوی مفادات کا تحفظ اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔ یہ بیان ان رپورٹس کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے بحرِ ہند میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارسیا پر دو بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں اسرائیل کی جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے نے بھی کہا ہے کہ اتحاد اس اسرائیلی جائزے کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ ڈیاگو گارسیا کی طرف فائر کیے گئے میزائل ایرانی بیلسٹک میزائل تھے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج کے سربراہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے 4 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے ہیں جو صرف اسرائیل نہیں بلکہ لندن، پیرس اور برلن جیسے یورپی دارالحکومتوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے حال ہی میں واشنٹگن کو ڈیاگو گارسیا اور فیئر فورڈ کے اڈے ایرانی میزائل تنصیبات پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ ابتدائی طور پر کیئر اسٹامر نے ان اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے گریز کیا تھا جس پر انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے "دفاعی" مقاصد کے لیے اس کی منظوری دے دی۔ ڈیاگو گارسیا کا اسٹریٹجک اڈا بحرِ ہند میں واقع ہے جہاں امریکی بم بار طیارے اور ایٹمی آبدوزیں تعینات رہتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں