ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی فورسز کی جانب سے فائر کیے گئے 400 میزائلوں میں سے 92 فیصد کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان نداف شوشانی نے بتایا کہ 28 فروری سے اب تک ایران نے 400 سے زائد بیلسٹک میزائل فائر کیے ۔ ہم نے روک تھام کی بہترین شرح حاصل کی ہے اور اس کی کامیابی کا تناسب تقریباً 92 فیصد رہا اور یہ صرف چار مقامات پر میزائل گرنے کے واقعات کے ساتھ ممکن ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کل عراد اور دیمونا میں گرنے والے بیلسٹک میزائل ان بیلسٹک میزائلوں سے مختلف نہیں ہیں جنہیں ماضی میں روکا گیا اور جنہیں مستقبل میں بھی روک دیا جائے گا۔
ہفتے کی رات ایران کے دو میزائل حملوں نے عراد شہر اور اس کے قریب واقع دیمونا ، جہاں اسرائیلی جوہری تنصیب ہے، میں شدید نقصان پہنچایا اور 100 سے زیادہ افراد کو زخمی کردیا تھا۔ فضائی دفاعی نظام ان دو میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا جن کے براہِ راست لگنے سے رہائشی محلوں میں شدید نقصان ہوا۔ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظاموں کے بارے میں جانتے ہیں۔
آرو-2 اور آرو-3 میزائل سسٹم
آرو-2 اور آرو-3 سسٹمز طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے خلاف اسرائیل کے دفاعی نظام کا سنگ بنیاد ہیں اور انہیں بنیادی طور پر ایرانی میزائل خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ نظام کرہ ارض کے اندر اور باہر میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایسی بلندیوں پر کام کرتا ہے جہاں وار ہیڈز کو آباد علاقوں سے دور تباہ کیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی ٹھیکیدار سرکاری ملکیت والی اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز ہے۔ بوئنگ کمپنی انٹرسیپٹر میزائلوں کی تیاری میں حصہ لیتی ہے۔
ڈیوڈز سلنگ سسٹم
درمیانے فاصلے کا ’’ ڈیوڈز سلنگ ‘‘ میزائل سسٹم 100 سے 200 کلومیٹر کے فاصلے سے فائر کیے گئے بیلسٹک میزائلوں کو گرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ نظام تل ابیب کی ملکیت والے رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز اور امریکی کمپنی آر ٹی ایکس (سابقہ ریتھیون) کے درمیان مشترکہ طور پر تیار کیا گیا ہے اور یہ طیاروں، ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کے لیے بھی بنایا گیا ہے۔
آئرن ڈوم سسٹم
آئرن ڈوم مختصر فاصلے کا فضائی دفاعی نظام ہے جو غزہ کی پٹی سے حماس جیسے گروہوں کی جانب سے فائر کیے جانے والے راکٹوں کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسے رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز نے امریکہ کے تعاون سے تیار کیا اور یہ 2011 میں آپریشنل ہوا۔ ٹرک پر نصب ہر یونٹ ریڈار سے چلنے والے میزائل فائر کرتا ہے تاکہ ہوا میں موجود مختصر فاصلے کے خطرات جیسے راکٹ، مارٹر گولے اور ڈرونز کو تباہ کیا جا سکے۔ اسرائیل نے 2017 میں بحری جہازوں اور سمندری اثاثوں کی حفاظت کے لیے آئرن ڈوم کا بحری ورژن بھی تعینات کیا۔ یہ نظام اس قدر حساس ہے کہ یہ بھی طے کرلیتا ہے کہ آیا میزائل کسی آباد علاقے کی طرف جا رہا ہے یا نیہں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ میزائل کو نظر انداز کر دیتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی نقصان کے گر جائے۔
آئرن بیم سسٹم
اسرائیل نے آئرن بیم سسٹم بھی تیار کیا ہے جو زمین پر مبنی ہائی پاور لیزر سسٹم ہے۔ اسے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں تیار کیا گیا اور 2025 کے آخر تک اسے مکمل طور پر فعال کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ نظام چھوٹے فضائی خطرات جیسے ڈرونز اور مارٹر گولوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ لیزر کے استعمال سے خطرات کو شدید گرم کر کے ناکارہ بنانے کی وجہ سے اس نظام کی آپریٹنگ لاگت دیگر دفاعی نظاموں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع ہے۔
امریکی تھاڈ سسٹم
امریکی فوج نے اکتوبر 2024 میں کہا تھا کہ اس نے اسرائیل کو جدید ترین ’’ تھاڈ ‘‘ اینٹی میزائل سسٹم بھیج دیا ہے۔ تھاڈ سسٹم امریکی فوج کے فضائی دفاعی نظام کا ایک اہم جزو ہے جو مختصر، درمیانے اور اس سے زیادہ فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کو ان کی پرواز کے آخری مرحلے میں روکنے اور تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جون 2025 میں ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ جب اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو امریکی فوج نے زمین پر موجود سسٹمز کے ذریعے اسرائیل پر فائر کیے گئے ایرانی میزائلوں کو گرانے میں مدد کی۔ اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ مشرقی بحیرہ روم میں موجود ایک امریکی بحری تباہ کن جہاز نے بھی آنے والے بیلسٹک میزائلوں کو گرانے میں مدد کی۔
براہِ راست فضائی مدد
زمینی سسٹمز کے ساتھ ساتھ فوجی حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں نے بھی فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے ڈرونز کو روکنے میں حصہ لیا ہے۔ یہ صورت حال مستحکم اور متحرک دفاع کے امتزاج پر انحصار کو ظاہر کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکمت عملی خطرے کی حد اور بلندی کے مطابق دفاعی تہوں کی تقسیم پر مبنی ہے تاکہ مختلف سسٹمز مل کر ایک ایسی چھتری فراہم کریں جسے فوجی اسٹیبلشمنٹ کثیر سطحی چھتری قرار دیتی ہے۔ علاقائی تناؤ جاری رہنے کے ساتھ اب توجہ اس نیٹ ورک کی اس صلاحیت پر ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع پھیل کر براہِ راست اسرائیل کو شامل کر لے تو یہ نیٹ ورک شدید اور بیک وقت ہونے والے حملوں سے کیسے نمٹے گا۔