جنگ کا 27 واں روز : ایران پر اسرائیلی حملے ، بیت المقدس کی سمت ایرانی میزائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ 27 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فورسز نے ایران بھر میں حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کر لی ہے، جس میں ملک کے وسطی شہر اصفہان سمیت مختلف علاقوں میں ایرانی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مختصر بیان کے مطابق ان وسیع پیمانے کی ضربات کا مقصد ایرانی فوجی تنصیبات کو مفلوج کرنا تھا۔ ایک علیحدہ بیان میں تصدیق کی گئی کہ اصفہان میں ایرانی فوجی آبدوز پروگرام سے وابستہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی ایران کے علاقے آزاد شہر میں کم از کم 10 فضائی حملے کیے گئے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی طرف سے بیت المقدس اور وسطی اسرائیل کی جانب میزائل داغے گئے۔ العربیہ کے نمائندے کے مطابق وسطی اسرائیل میں ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ تاہم پیتح تکوا اور کفر قاسم کے علاقوں میں میزائلوں کے دھماکا خیز سر گرنے کی اطلاعات ہیں۔ شمالی اسرائیل کے علاقوں صفد اور جولان میں سائرن بجنے کے ساتھ ساتھ کھلے مقامات پر ملبہ گرنے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد اور صوبہ خراسان کے مرکز میں صورتحال انتہائی کشیدہ رہی، جہاں مقامی میڈیا کے مطابق آج صبح سویرے شدید دھماکوں سے زمین لرز اٹھی۔ امریکی بم بار طیاروں نے کئی گھنٹوں تک مشہد ایئرپورٹ سمیت متعدد اہم اہداف پر وسیع پیمانے پر بم باری کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ براڈ کوپر نے بدھ کی شام انکشاف کیا کہ فروری میں آپریشن کے آغاز سے اب تک امریکی افواج ایرانی فوجی اہداف پر 10 ہزار سے زائد ضربیں لگا چکی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایرانی ڈرون اور میزائل داغنے کی شرح میں 90 فی صد سے زائد کمی آئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ خطے کے ممالک اور امریکی افواج پر حملہ کرنے کی ایرانی صلاحیت اب انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔

اس عسکری دباؤ کے ساتھ ساتھ ایران کے جزیرہ خارگ پر ممکنہ امریکی زمینی حملے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تہران انتظامیہ اس اہم جزیرے پر کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کو روکنے کے لیے دفاعی تیاریاں کر رہی ہے، جس میں ساحلی پٹی پر بارودی سرنگیں بچھانا بھی شامل ہے۔ نیویارک کے مین ہٹن کے برابر رقبہ رکھنے والا یہ جزیرہ ایرانی ساحل سے محض 25 کلومیٹر دور خلیج میں واقع ہے اور ملکی معیشت کا کلیدی ستون سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی محاذ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے معاہدے کو قبول نہ کیا تو وہ اس کے لیے "جہنم کے دروازے" کھول دیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران امن مذاکرات کا حصہ ہے، لیکن ایرانی مذاکرات کار اپنی جماعت کے ہاتھوں مارے جانے کے خوف سے اس کا اعتراف نہیں کر رہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اپنی فوجی شکست تسلیم نہ کی تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے پہلے سے کہیں زیادہ کاری ضرب لگانے کو یقینی بنائیں گے۔

تہران نے براہِ راست مذاکرات کی موجودگی کی تردید کی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ خطے کے ممالک (پاکستان اور مصر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کی جانب سے تجاویز موجود ہیں۔ بعد ازاں تہران نے امریکی جانب سے پیش کی جانے والی ان 15 دفعات یا شرائط کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا جو منظرِ عام پر آئی تھیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اپنی شرائط پر اور مستقبل کی ضمانتوں کے ساتھ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز صرف دشمنوں کے لیے بند کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں