كويت : ریاستی قیادت کے قتل کی منصوبہ بندی ،"حزب اللہ" سے وابستہ دہشت گرد نیٹ ورک کا خاتمہ

پانچ شہری شامل ہیں جنھوں نے مخبری اور دہشت گرد تنظیم میں شمولیت کا اعتراف کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

کويت نے ملک کے اندر ایک دہشت گردانہ منصوبے کو ناکام بنانے اور ایک ایسے نیٹ ورک کو پکڑنے کا انکشاف کیا ہے جس میں متعدد کویتی شہری شامل ہیں اور جس کا تعلق لبنانی ملیشیا حزب اللہ سے ہے۔ اس نیٹ ورک نے ریاست کی اہم شخصیات اور قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے قتل کی کارروائیاں کرنے، ان کاموں کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے اور ملک کے اعلیٰ مفادات کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ یہ کارروائی 'غیر فعال گروہوں' کے خلاف تازہ ترین سکیورٹی آپریشن ہے، جو اسی تنظیم سے وابستہ ایک اور گروہ کے خاتمے کے چند دن بعد عمل میں آیا ہے۔

کویتی وزارتِ داخلہ نے بدھ کی شام بتایا کہ اسٹیٹ سکیورٹی سروس نے درست نگرانی اور متعلقہ اقدامات کے بعد ایک دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں ایک نیٹ ورک کو گرفتار کیا گیا جو 5 شہریوں اور ایک غیر کویتی شخص پر مشتمل شخص پر مشتمل ہے جن کی شہریت منسوخ ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک فرار ہونے والے 14 ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے (جن میں پانچ شہری، پانچ ایسے غیر کویتی جن کی شہریت منسوخ ہو چکی ہے، دو ایرانی اور دو لبنانی شہری شامل ہیں)۔

وزارت نے وضاحت کی کہ ملزمان کا ملک میں کالعدم دہشت گرد تنظیم حزب اللہ سے تعلق ثابت ہو چکا ہے۔ وزارتِ داخلہ کی معلومات کے مطابق اس نیٹ ورک نے ریاست کی اہم شخصیات اور قیادت کے قتل اور ان کاموں کے لیے افراد کی بھرتی کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ مزید بتایا گیا کہ ملزمان نے جاسوسی، دہشت گرد تنظیم میں شمولیت، قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے قتل کی کارروائیاں کرنے کی تیاری اور ملک کے اعلیٰ مفادات کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے ملک سے باہر دہشت گرد تنظیم کے ارکان اور قیادت کے ہاتھوں جدید فوجی تربیت حاصل کرنے کا بھی اقرار کیا ہے، جس میں اسلحہ، دھماکا خیز مواد کا استعمال، نگرانی کے طریقے اور قتل کی مہارتیں شامل تھیں۔ یہ ملک کے ساتھ سنگین غداری اور وفاداری و وابستگی کے تقاضوں سے کھلی بغاوت کی ایک تصویر ہے۔

اسی تناظر میں کویتی وزارتِ داخلہ نے ملزمان کو ان کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ سکیورٹی ادارے اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس گروہ یا کسی دوسری دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلق یا تعاون ثابت ہونے والے ہر شخص کا پیچھا کیا جا سکے۔

کویتی وزارتِ داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ کویت کی سکیورٹی، خود مختاری اور قومی استحکام ایک ایسی سرخ لکیر ہے جس پر کوئی سمجھوتا یا نرمی نہیں کی جائے گی۔ وزارت نے واضح کیا کہ اس گروہ کی کارروائی ایک انتہائی خطرناک مجرمانہ عمل اور ملک کے ساتھ بڑی غداری ہے کیونکہ اس میں براہِ راست کویت کی سکیورٹی اور قیادت کو نشانہ بنانے اور اس کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وزارت نے متنبہ کیا کہ سکیورٹی ادارے ہر اس شخص کی تاک میں رہیں گے جو ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے یا دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنے کی جرات کرے گا، ملوث پائے جانے والے ہر شخص کے خلاف بلا استثنا اور بغیر کسی رعایت کے سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ کویتی وزارتِ داخلہ نے رواں ماہ 16 مارچ کو بھی کالعدم دہشت گرد تنظیم حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد گروہ کو پکڑنے کا اعلان کیا تھا۔ اس میں 14 کویتی اور دو لبنانی شہری شامل تھے۔ اس گروہ کا مقصد ملک کی سکیورٹی کو غیر مستحکم کرنا اور تنظیم میں شمولیت کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنا تھا۔

اسی طرح وزارتِ داخلہ نے 18 مارچ کو بھی یہ اعلان کیا تھا کہ اسٹیٹ سکیورٹی سروس نے گہری مانیٹرنگ اور تحقیقات کے بعد ریاست کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ایک دہشت گردانہ منصوبہ ناکام بنایا ہے۔ اس کارروائی میں کالعدم دہشت گرد تنظیم (حزب اللہ) سے تعلق رکھنے والے دس کویتی شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انھوں نے بیرونی فریقوں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کی تھی اور انہیں مطلوبہ مقامات کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے جاسوسی کی کوشش کی تھی، جو ملک کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں