ایران تہران میں فوجی چوکیوں کے لیے 12 سال سے کم عمر بچوں کو بھرتی کر رہا ہے

کم عمر بچے بھی شرکت کے خواہشمند ہیں: اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک ایرانی فوجی اہلکار نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایران کی سکیورٹی فورسز جنگ کے دوران دارالحکومت تہران میں فوجی چوکیوں پر تعیناتی اور دیگر فرائض انجام دینے کے لیے 12 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھرتی کر رہی ہیں۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی تہران میں چاروں طرف چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں جن کے بارے میں علاقہ مکینوں نے اطلاع دی ہے کہ وہاں سادہ لباس میں نوجوان تعینات کیے گئے ہیں جن میں سے بعض کے پاس مشین گنیں بھی ہیں۔

سکیورٹی فورسز میں شامل ہونے کی غرض سے لوگوں کا اندراج کرنے کے لیے ایرانی حکام نے تہران میں "برائے ایران" کے نام سے ایک بھرتی مہم شروع کی ہے جس میں بھرتی ہونے والوں کے لیے کم از کم عمر 12 سال کر دی گئی ہے۔

تہران میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ایک اہلکار رحیم نادعلی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا، "عالمی بدمعاش کے خلاف" 12 سال سے کم عمر کے لوگ آئی آر جی سی اور نوجوانوں کی رضاکار ملیشیا بسیج کی مدد کے لیے اندراج کروا سکتے ہیں۔" یہ اصطلاح امریکہ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا، انہیں تفویض کردہ امور میں "سکیورٹی ڈیٹا جمع کرنا اور آپریشنل گشت" کے ساتھ ساتھ شہر میں رات کے وقت گاڑیوں کے قافلے منظم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا، "بسیج چوکیوں پر اور گشت کے لیے جو آپ شہروں میں دیکھتے ہیں، ہمارے پاس نوجوانوں اور نوعمروں میں شرکت کے خواہشمند رضاکاروں کی بہت زیادہ تعداد تھی۔"

نیز کہا، "شامل ہونے کی درخواست کرنے والوں کی عمروں پر غور کرتے ہوئے ہم نے اب کم از کم عمر 12 سال کر دی ہے کیونکہ 12-13 سال کی عمر کے بچے اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔"

تہران کے رہائشیوں نے ملک سے باہر اے ایف پی کے صحافیوں کو بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے انہوں نے شہر کے ارد گرد مسلح نوجوان دیکھے ہیں۔

"فوجی پک اپ ٹرک جن پر بھاری ہتھیار نصب ہوتے ہیں، نے سڑکیں روکی ہوتی ہیں اور گاڑیوں کی تلاشی لیتے ہیں۔ آپ ایک جگہ سے گذر جاتے ہیں لیکن صرف 100 میٹر آگے ہی کئی پرائیویٹ گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں جن میں اوزی (سب مشین گنیں) تھامے ہوئے نوجوان دوبارہ گاڑیاں روک لیتے ہیں،" رہائشی کاوہ نے کہا۔

انہوں نے کہا، "جب کسی جگہ کوئی میزائل گرتا ہے تو علاقہ فوراً سیل کر دیا جاتا ہے۔ کلاشنکوف والے غیر تربیت یافتہ نوجوان لوگوں پر حکم چلاتے ہیں کہ 'یہاں کھڑے ہو، وہاں کھڑے ہو'" اور باقاعدگی سے ہوا میں انتباہی گولیاں چلاتے ہیں۔

تہران کے ایک اور رہائشی نے کہا، رات کے وقت حکومت کے حامی "سپیکر فونز والی کاریں لیتے ہیں اور انہیں جھنڈے دے دیتے ہیں اور وہ بہت شور کے ساتھ مارچ کرتے اور سڑکوں پر نعرے لگاتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں