ایران کے منظر نامے پر چھائی 8 اہم شخصیات ... اور ایک پُراسرار کردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی جانے والی جنگ کے پہلے ہی روز (28 فروری) ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سے، ملک کے حکمران نظام نے اپنی تزویراتی منصوبہ بندی اور کام کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

خامنہ ای کی موت کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اختیارات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور تزویراتی فیصلہ سازی میں اس کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ اس وقت سیاسی اور عسکری منظرنامے پر 8 شخصیات نمایاں ہیں:

1۔ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی

اپنے دو پیشروؤں کی ہلاکت کے بعد انہیں پاسدارانِ انقلاب کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ برسوں سے اس فورس میں با اثر شخصیت رہے ہیں۔ انھوں نے ایران عراق جنگ میں حصہ لیا، قدس فورس کی سربراہی کی اور وزیر دفاع بھی رہے۔ روئٹرز کے مطابق انہوں نے اندرونی اپوزیشن کو دبانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

2۔ اسماعیل قاآنی

پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی ایک پُرارسرار شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے وہ خطے میں اتحادی گروہوں کے ساتھ تعلقات سنبھال رہے ہیں۔ وہ عراق، لبنان اور یمن میں ایرانی اتحادیوں کے عسکری نیٹ ورک کا انتظام دیکھتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے بیرونی آپریشنز کے ذمہ دار ہیں۔ کئی بار ان کی ہلاکت کی افواہیں اڑیں لیکن ایرانی حکام نے ہمیشہ ان کی تردید کی۔

3۔ اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قاليباف

سیاسی میدان میں قاليباف ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر اور تہران کے میئر رہ چکے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ان کی آواز مزید توانا ہوئی ہے اور وہ جنگ کے حوالے سے ایران کے موقف کی وضاحت کر رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی اہل کار کے مطابق وہ گذشتہ چند دنوں سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔

4۔ سربراہ عدلیہ آیت اللہ غلام حسین محسن اژہ ای

عدلیہ کے سربراہ محسن اژہ ای سابق انٹیلی جنس چیف بھی رہ چکے ہیں۔ 2009 کے مظاہروں کو سختی سے کچلنے میں ان کے کردار کی وجہ سے امریکہ ان پر پابندیاں لگا چکا ہے۔ انہیں سخت گیر قدامت پسندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

5۔ صدر مسعود پزشکیان

اگرچہ ایران میں صدارت کا منصب اب پہلے جیسا با اثر نہیں رہا، لیکن براہِ راست منتخب ہونے کی وجہ سے ان کی رائے اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم ان کے محدود اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب انہوں نے خلیجی ممالک پر حملوں پر معذرت کی تو پاسدارانِ انقلاب کی ناراضگی کی وجہ سے انہیں اپنے بیان سے جزوی طور پر پیچھے ہٹنا پڑا۔

6۔ سعید جلیلی

قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ اور ایران عراق جنگ کے غازی سعید جلیلی ایرانی سیاست کے کٹر قدامت پسند سمجھے جاتے ہیں۔ وہ سابق جوہری مذاکرات کار ہیں جو کسی سمجھوتے پر تیار نہیں ہوتے۔

7۔ علی رضا اعرافی

شورائے نگہبان کے اہم رکن اور ممتاز عالمِ دین ہیں۔ نظام میں ان پر اس قدر اعتماد کیا جاتا ہے کہ انہیں خامنہ ای کی وفات کے بعد ملک چلانے والی تین رکنی عبوری کونسل کا رکن منتخب کیا گیا۔

8۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی

جنگ کے دوران سفارتی محاذ پر عراقچی ہی متحرک ہیں اور علاقائی ممالک و ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں جو برسوں سے مغربی ممالک کے علاوہ روس اور چین کے ساتھ بھی مذاکرات کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کا موجودہ حکمران نظام چند افراد کے بجائے اداروں کے کثیر الجہتی ڈھانچے پر استوار ہے، جس کا مقصد نظام کی بقا کو یقینی بنانا ہے۔ "ولایتِ فقیہ" کے نظریے کے تحت سپریم لیڈر بارہویں امام کے نائب کے طور پر سیاسی و دنیاوی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ سپریم لیڈر کا دفتر جسے "بیت" کہا جاتا ہے، ایک وسیع عملے پر مشتمل ہے جو حکومت کے تمام اداروں کی نگرانی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں