امریکی انٹیلی جنس سربراہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں نرم رائے رکھتی ہیں ، صدر ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا ایک مہینہ گزرنے کے بعد پہلی مرتبہ اس امر کا اشارہ دیا ہے کہ ان کے اور ان کی ٹیم کے بعض ارکان میں سوچ کا فرق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا امریکی انٹیلی جنس چیف تلسی گیبارڈ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں نسبتاً نرم سوچ رکھتی ہیں۔

صدر ٹرمپ جو اپنی گفتگو میں عام طور پر مثبت اور منفی دونوں باتیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایران کے حوالے سے ڈیل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل جلد ہو سکتی ہے۔

انہوں نے انٹیلی جنس چیف تلسی کے بارے میں ایک سوال پر بتایا کہ وہ صدر سے قدرے مختلف سوچ کی حامی ہیں کہ ایرانی جوہری پروگرام سے کیسے ڈیل کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص اس جنگ کے سلسلے میں خدمات انجام دینے کو دستیاب نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں اس بارے میں بہت مضبوط مؤقف کا حامی ہوں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔ کیونکہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ فوری طور پر استعمال کرتے۔ لیکن تلسی گیبارڈ میرے خیال کے مطابق اس سلسلے میں ذرا نرم رویہ رکھتی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں اختلافات کی باتیں جنگ کے شروع سے ہی چل رہی ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ اس بارے میں کم ہی گفتگو کرتے ہیں اور ان کے نائب صدر جے ڈی وانس نے بھی جاری تنازعات پر انتہائی محتاط انداز اپنا رکھا ہے۔ وہ عام طور پر تنازعات کو ملک کے اندر اقتصادی و سیاسی قیمت کے زیادہ ادا کرنے کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے کئی دیگر حکام ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں متضاد بیانات دیتے رہے ہیں۔

صدر نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے سے محض چند ہفتے کے فاصلے پر ہے۔ جبکہ ایران کا شروع سے یہ کہنا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اس کا یہ پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

امریکی انٹیلی جنس سربراہ نے ماہ مارچ کے شروع میں یہ کہا تھا کہ امریکہ کے انٹیلی جنس سے متعلق لوگوں کو خوب اعتماد ہے کہ ایران نے افزودہ کیا گیا یورینیئم کہاں رکھا ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کیا۔ کہ امریکہ ایرانی یورینیئم کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

واضح رہے تلسی گیبارڈ سے قریبی تعلق رکھنے والے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہم عہدیدار جوکینٹ نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے محض چند دن بعد ہی اپنے عہدے سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود ایران کے خلاف جنگ شروع کر دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں