دفترِ خارجہ کی مہلت ختم ہونے کے بعد بھی ایرانی سفیر لبنان نہیں چھوڑیں گے: ایرانی ذرائع

ایک ایرانی سفارت کار نے رضا شیبانی کے لبنان نہ چھوڑنے کے فیصلے کا جواز نبیہ بری اور حزب اللہ کی خواہش کو قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے ایک ایرانی سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ نامزد ایرانی سفیر محمد رضا شیبانی لبنان میں ہی مقیم رہیں گے۔ لبنان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ان کی تعیناتی کی منظوری واپس لیے جانے کے بعد ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی مہلت اتوار کو ختم ہو گئی ہے۔ تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے اسرائیل کے ساتھ ایک نئی تباہ کن جنگ میں شامل ہونے کے بعد لبنانی حکام کی جانب سے کیے گئے غیر معمولی اقدامات کے سلسلے میں وزارتِ خارجہ نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ فروری کے آخر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے والے ایرانی سفیر محمد رضا شیبانی کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ ان کی تعیناتی کی منظوری واپس لے لی گئی ہے ۔ انہیں اتوار تک ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ لبنانی حکام کی جانب سے یہ قدم سپاہ پاسدارانِ انقلاب پر اسرائیل کے ساتھ جنگ میں حزب اللہ کی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کے الزام کے بعد اٹھایا گیا۔

لبنانی وزارتِ خارجہ نے بعد ازاں ایک بیان میں واضح کیا کہ اس فیصلے کا مطلب ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنا نہیں ہے بلکہ یہ سفیر کے خلاف ایک تادیبی کارروائی ہے کیونکہ انہوں نے لبنان میں نامزد سفیر کے طور پر سفارتی آداب اور فرائض کی خلاف ورزی کی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ ایرانی سفیر لبنان کے سپیکر پارلیمنٹ نبیہ بری اور حزب اللہ کی خواہش پر لبنان سے روانہ نہیں ہوں گے۔ یاد رہے حزب اللہ نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شیبانی کی منظوری کی منسوخی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیں۔

حزب اللہ اور امل موومنٹ نے ایرانی سفیر کی بے دخلی کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے اس فیصلے سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکام کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کے چار وزراء نے جمعرات کو لبنانی کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا تھا۔ رواں ماہ کے آغاز میں لبنان نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر منظم میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا تھا۔

حکام نے پانچ مارچ کو لبنان میں پاسدارانِ انقلاب کی کسی بھی ممکنہ سرگرمی پر پابندی لگانے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم وزیرِ اعظم نواف سلام نے گزشتہ ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ پاسدارانِ انقلاب لبنان میں موجود ہیں اور بدقسمتی سے جنگی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد حکومت نے حزب اللہ کی سیکیورٹی اور فوجی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا دی تھی۔

مشرقِ وسطیٰ میں یہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت لبنان تک پہنچ گئی تھی جب امریکی و اسرائیلی حملے کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔ جواب میں اسرائیل لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کر رہا ہے اور اس کی افواج جنوبی لبنان میں داخل ہو گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں