لبنان جس پر اسرائیل نے ایران کے ساتھ ہی ساتھ جنگ کا آغاز کررکھا ہے ، دارالحکومت میں بمباری اور حملوں کا خطرہ یونیورسٹیوں تک پہنچ گیا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کی جانب سے اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پر بمباری کے ساتھ ہی امریکہ نے اپنی بیروت یونیورسٹی کی کلاسز آنلائن کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاکہ ایران کی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہ ہو جائے۔
امریکی یونیورسٹی کی کلاسز کو آن لائن کرنے کا یہ فیصلہ اتوار کے روز کیا گیا ہے۔ اعلان کے مطابق یہ آن لائن کلاس کم از کم اگلے دو دنوں تک جاری رہیں گی۔ کیونکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے بیروت میں بھی امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
اس سلسلے میں یونیورسٹی آف بیروت کے صدر کی طرف سے ایک باضابطہ بیان بھی جاری کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے یہ دھمکی اتوار کے روز کچھ ہی دیر پہلے دی ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں براہ راست اس یونیورسٹی کے حوالے سے ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے کوئی متعین دھمکی نہیں دی گئی ہےنہ ہی ہمارے یونیورسٹی کیمپسز اور میڈیکل سنٹرز کو کوئی دھمکی ملی ہے۔ اس کے باوجود ہم نے پیر اور منگل کے روز اپنی تمام کلاسز آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق کلاسز اور امتحانات سے متعلق تمام تر سرگرمیاں آن لائن ہوں گی۔ یونیورسٹی صرف وہی سٹاف ممبران آئیں گے جن کا آنا انتہائی لازمی ہوگا۔ یاد رہے ایرانی پاسداران انقلاب کور نے ایران کی دو یونیورسٹیوں کی امریکہ اور اسرائیل کی بمباری سے تباہی کے بعد یہ دھمکی دی گی ہے۔
پاسدران کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی یونیورسٹیوں کو جوابی کارروائیوں سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ پیر کے روز بارہ بجے تک ایرانی یونیورسٹیوں پر کی گئی بمباری کی مذمت کے لیے بیان جاری کرے۔ صرف مذمتی بیان جاری کر دیا گیا تو ہم جوابی کارروائی نہیں کریں گے۔
پاسداران انقلاب نے امریکی یونیورسٹیوں کے اساتذہ، طلبہ اور سٹاف ممبران سے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی یونیورسٹیوں سے دور رہیں۔ تاکہ خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
خیال رہے مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک امریکی یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ ان ملکوں میں قطراور لبنان شامل ہیں۔ کئی میڈیکل تعلیم کے اداروں کے ساتھ ہسپتال بھی قائم ہیں۔ بیروت میں یونیورسٹی کے علاوہ امریکی میڈیکل کالج اور ہسپتال بھی قائم ہیں ۔