بغداد میں مسلح افراد کے ہاتھوں امریکی خاتون صحافی اغوا، ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک امریکی خاتون صحافی کو اغوا کر لیا ہے، جبکہ اغوا کاروں کی گاڑی الٹنے کے بعد ایک ملزم کی گرفتاری کا بھی اشارہ دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ ایک غیر ملکی خاتون صحافی کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا ہے، جس کے بعد تعاقب اور نگرانی کے نتیجے میں اغوا کاروں کی گاڑی کا گھیراؤ کیا گیا، فرار کی کوشش کے دوران گاڑی الٹ گئی اور سکیورٹی فورسز نے ایک ملزم کو گرفتار کر کے واردات میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی قبضے میں لے لی ہے۔

وزارت داخلہ نے مزید اس بات کی تصدیق کی ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی تلاش اور مغویہ کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور واقعے کے حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ وزارت داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امن و امان کو سبوتاژ کرنے یا غیر ملکی مہمانوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دے گی اور اس کے سکیورٹی ادارے مکمل چوکنا رہ کر قانون توڑنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹیں گے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

امریکی صحافی شیلی کلیسٹن
امریکی صحافی شیلی کلیسٹن

اٹلی میں مقیم امریکی خاتون صحافی

العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ مسلح گروہ نے بغداد میں امریکی صحافی شیلی کلیستون کو اغوا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک اغوا کار کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ باقی ساتھی مغویہ کو لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

العربیہ کو موصول ہونے والی ایک خصوصی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عراقی دارالحکومت کی ایک سڑک پر ایک گاڑی خاتون کے قریب رکتی ہے اور مسلح افراد ان کے قریب آ کر انہیں زبردستی گاڑی میں سوار کرتے ہیں جس کے بعد گاڑی تیزی سے وہاں سے روانہ ہو جاتی ہے۔

ڈرائیور سکیورٹی ادارے کا اہلکار نکلا

ایک عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ شیلی کلیستون کے اغوا کے واقعے میں گرفتار ہونے والے ڈرائیور کے پاس ایک سکیورٹی ادارے کا شناختی کارڈ موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی صحافی کو صوبہ بابل منتقل کر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق مغویہ امریکی شہری ہیں لیکن وہ اپنی پوری زندگی اٹلی میں مقیم رہی ہیں۔ وہ اطالوی نیوز ایجنسی کے علاوہ ویب سائٹس اور اخبارات جیسا کہ المونٹر کے ساتھ بطور آزاد صحافی منسلک ہیں۔ بغداد میں امریکی سفارت خانے نے گذشتہ دنوں اور ہفتوں کے دوران اپنے شہریوں کے لیے بارہا سکیورٹی الرٹ جاری کیے تھے جن میں اغوا کے بڑھتے ہوئے خطرات سمیت دیگر دھمکیوں کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔

عراق میں سکیورٹی کی تازہ صورتحال

خیال رہے کہ 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد سے ایران نواز ملیشیاؤں نے عراق کے مختلف علاقوں بشمول عراقی کردستان میں غیر ملکیوں کی آمد و رفت والے ہوٹلوں اور امریکہ سے وابستہ دیگر تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔

گذشتہ برسوں کے دوران عراق میں متعدد سماجی کارکنوں، محققین اور صحافیوں کو قتل، اقدام قتل اور اغوا کا نشانہ بنایا گیا ہے، یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی جنگ سے قبل ملک میں کچھ سکیورٹی استحکام پیدا ہو چکا تھا۔ ستمبر سنہ 2025ء میں اسرائیلی نژاد روسی محققہ الزبتھ تسورکوف کو بغداد سے ان کے اغوا کے ڈھائی سال بعد رہا کیا گیا تھا۔ عراقی حکومت نے تسورکوف کو حراست میں رکھنے والوں کو قانون سے منحرف قرار دیا تھا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نواز گروپ کتیب حزب اللہ نے انہیں رہا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں