حالات کے پیش نظر ... عازمین حج کی آمد میں سہولت کے لیے سعودی آپریشن روم کا قیام
وزیر حج : تمام متعلقہ ادارے کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں
سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے پیشگی اقدام کے طور پر بیرون ملک سے آنے والے عازمین حج کی آمد کے طریقہ کار کو سہل بنانے اور تعاون فراہم کرنے کے لیے ایک مخصوص آپریشن روم کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم خطے میں ہونے والی تازہ ترین تبدیلیوں کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
سعودی وزیر حج و عمرہ توفیق الربيعہ نے مدینہ منورہ میں "عمرہ و زیارت فورم" کے افتتاح کے موقع پر واضح کیا کہ یہ آپریشن روم معتمرین کی آمد کے لمحے سے ہی انہیں درپیش کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط ترسیلی پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس کا قیام سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی شراکت داری سے عمل میں آیا ہے تاکہ طریقہ کار میں روانی کو یقینی بنایا جائے اور آرام و سلامتی کے معیار کو بہتر کیا جا سکے۔
توفیق الربيعہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ مختلف متعلقہ ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ درجے کی تیاری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسے مربوط نظام کا حصہ ہے جو اللہ کے مہمانان کی خدمت کو اولین ترجیحات میں رکھتا ہے اور انہیں آسانی و اطمینان کے ساتھ مناسک کی ادائیگی کے قابل بناتا ہے۔
سعودی وزیر حج و عمرہ نے بیرون ملک سے آنے والے معتمرین کی تعداد میں نمایاں اضافے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال یہ تعداد 1.8 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ سال 2022 اور 2025 کے مقابلے میں 214 فی صد سے زیادہ کا اضافہ ہے، جو اس شعبے کی بحالی اور طلب کی تیز رفتاری کا مظہر ہے۔
انہوں نے معتمرین کے تجربے میں واضح بہتری کی طرف بھی اشارہ کیا، جہاں گذشتہ سال ان کے اطمینان کی شرح 94 فی صد رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاض الجنۃ کی زیارت کی گنجائش میں بھی توسیع کی گئی ہے، جہاں اسی عرصے کے دوران 1.56 کروڑ سے زائد زائرین کی آمد ریکارڈ کی گئی۔