لبنان کے کل رقبے کا 10 فیصد حصہ، یسرائیل کاٹز کے زیرِ غور بفر زون کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور دریائے لیطانی تک پھیلے ہوئے علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گی۔

یسرائیل کاٹز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آپریشن کی تکمیل پر اسرائیلی فوج کو لبنانی سرزمین کے اندر ایک سکیورٹی زون میں ٹینک شکن میزائلوں کے خلاف دفاعی لائن پر تعینات کیا جائے گا اور فوج دریائے لیطانی تک کے تمام علاقے کو کنٹرول کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کے قریب واقع دیہاتوں کے تمام مکانات کو مسمار کر دیا جائے گا جیسا کہ رفح اور بیت حانون میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنوبی لبنان کے 6 لاکھ سے زائد باشندے جو شمال کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں ان کی واپسی پر اس وقت تک پابندی رہے گی جب تک شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کی سلامتی یقینی نہیں بنا لی جاتی۔

جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی پر قاسمیہ پل (آرکائیو - اے ایف پی)
جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی پر قاسمیہ پل (آرکائیو - اے ایف پی)

اس بفر زون کا کل رقبہ کتنا ہے؟

اس مجوزہ بفر زون کے بارے میں بات کرنے سے قبل یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اسرائیلی فوج دو مارچ سنہ 2026ء سے اب تک کئی لبنانی سرحدی قصبوں اور دیہاتوں میں داخل ہو چکی ہیں۔ لبنانی وزیر دفاع میشل منسی نے گذشتہ جمعہ کو تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی فوج سرحد کے اندر 8 کلومیٹر تک داخل ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ایک اعلیٰ وزارتی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسرائیل دریائے لیطانی تک پیش قدمی کی کوشش کر رہا ہے جو لبنان کے کل رقبے کے 10 فیصد کے برابر علاقہ بنتا ہے۔

اس علاقے کی گہرائی کے بارے میں تخمینے مختلف ہیں لیکن اسرائیلی منصوبہ دو مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ براہ راست سکیورٹی بیلٹ پر مبنی ہے جو بین الاقوامی سرحد (بلیو لائن) سے 10 سے 15 کلومیٹر گہرائی تک پھیلی ہوئی ہے جس کا مقصد ٹینک شکن میزائلوں اور پیادہ فوج کی دراندازی کو روکنا ہے۔

دریائے لیتانی - مغربی بیکا میں قرون جھیل (رائٹرز)
دریائے لیتانی - مغربی بیکا میں قرون جھیل (رائٹرز)

توسیع شدہ مرحلہ اور نشانہ بننے والے علاقے

دوسرا یعنی توسیع شدہ مرحلہ دریائے لیطانی تک پیش قدمی پر مبنی ہے جو بعض مقامات پر سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔ اگر یہ پٹی قائم ہو جاتی ہے تو نشانہ بننے والا کل رقبہ تقریباً 1,200 مربع کلومیٹر ہوگا جو لبنان کے جغرافیائی رقبے کا تقریباً 10 فیصد ہے۔

اس بفر زون میں درجنوں دیہات اور قصبے شامل ہوں گے جن کے بیشتر باشندوں کو زبردستی نکال دیا گیا ہے۔ یہ علاقے مغربی، وسطی اور مشرقی سیکٹرز میں منقسم ہیں۔ مغربی سیکٹر میں ناقورہ، راس البیاضہ (صور شہر پر نظر رکھنے والی تزویراتی پہاڑی)، علما الشعب، الضہیرہ اور مروحین شامل ہیں۔ وسطی سیکٹر میں بنت جبیل، عیتا الشعب، مارون الراس اور میس الجبل شامل ہیں جہاں عمارتوں سے پاک "ارض محروقہ" بنانے کے لیے منظم طریقے سے مکانات مسمار کیے گئے ہیں۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج
جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج

مشرقی سیکٹر میں تزویراتی قصبہ خیام شامل ہے جو سہل الحولہ کی بلندی پر ہے۔اس کے علاوہ شبعا اور کفر شوبا کے پہاڑی علاقے اور کفر تبنیت و دیر الزھرانی کے علاقے شامل ہیں جہاں حالیہ بمباری اور انخلاء کے بعد پیش قدمی میں توسیع کی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج سرحدی دیہاتوں میں "ارضِ سوختہ" (Scorched Earth) کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے جہاں پورے کے پورے رہائشی بلاکس کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا ہے تاکہ انہیں مستقبل میں مشاہداتی یا حملے کے مراکز کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے، جبکہ لبنانی بے گھر افراد کی دریائے لیطانی کے جنوب میں کسی بھی علاقے میں واپسی پر غیر معینہ مدت تک پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ گذشتہ عرصے میں اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان تک رسائی منقطع کرنے کے لیے پلوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں