ایرانی فوج کے سربراہ کا افواج کو زمینی حملے کے منظرنامے کے لیے تیار رہنے کا حکم

حاتمی نے مخالفین کی نقل و حرکت کی انتہائی درستی اور مکمل احتیاط کے ساتھ نگرانی کرنے کی ہدایت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی زمینی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے حملے کی صورت میں "دشمن کی فوج کا کوئی بھی اہل کار زندہ نہیں بچے گا"۔

حاتمی نے آج جمعرات کے روز فیلڈ کمانڈرز کو ہدایات جاری کیں، جس میں انہوں نے مخالفین کی نقل و حرکت کی "انتہائی درستگی اور مکمل احتیاط" کے ساتھ نگرانی کرنے اور مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "حملے کے مختلف منظرناموں کا بروقت مقابلہ کرنے کے لیے مناسب منصوبے تیار اور نافذ کیے جائیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ناکام بنایا جا سکے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد "ملک سے جنگ کے سائے ختم کرنا اور تمام شہریوں کے لیے مکمل سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے"۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی عوام کی سکیورٹی کی قیمت پر کسی بھی محفوظ علاقے کے وجود کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا نے خاموش فوٹیج بھی جاری کی ہے جس میں حاتمی کو تین دیگر فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک کمرے میں اور تقریباً بارہ دیگر افراد کے ساتھ ویڈیو کال پر دیکھا جا سکتا ہے۔ روئٹرز نیوز ایجنسی ابھی تک اس فوٹیج کی فلم بندی کی تاریخ کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع "اپنے اختتام کے قریب ہے" اور یہ چند ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے، لیکن خلیج میں اضافی امریکی افواج کی متوازی تعیناتی نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاریاں جاری ہو سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں